உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Agnipath: اگنی پتھ کی درخواستوں پراگلےہفتے سماعت کیلئےسپریم کورٹ راضی! کیاہوگافیصلہ؟

    سپریم کورٹ (Supreme Court)

    سپریم کورٹ (Supreme Court)

    ملک میں پرتشدد مظاہروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پی آئی ایل میں کہا گیا ہے کہ اس اسکیم سے غیر یقینی صورتحال، مستقبل کی عدم تحفظ اور سلامتی پر معیشت کو ترجیح دینے کی وجہ سے ملک گیر پرتشدد احتجاج کا سامنا ہے۔

    • Share this:
      سپریم کورٹ (Supreme Court) نے پیر کے روز مسلح افواج میں قلیل مدتی بھرتی کے لیے مرکز کی اگنی پتھ اسکیم (Agnipath scheme) کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کے ایک گروپ کی اگلے ہفتے جانچ کرنے پر اتفاق کیا۔

      جسٹس اندرا بنرجی اور جے کے مہیشوری کی بنچ نے کہا کہ 12 جولائی سے شروع ہونے والے ہفتے میں مناسب بنچ کے سامنے معاملہ درج کریں۔ ایڈوکیٹ کمود لتا نے ہرش اجے سنگھ کی جانب سے درخواست کا ذکر کرتے ہوئے فوری سماعت کی درخواست کی۔ عدالت نے گرمیوں کی تعطیلات کے بعد عدالتوں کو دوبارہ کھولنے پر اس کی فہرست بنانے کا حکم دیا، جو چیف جسٹس آف انڈیا کی منظوری سے مشروط ہے۔

      ایک اور درخواست گزار ایڈوکیٹ ایم ایل شرما نے اسکیم کی صداقت پر سوال اٹھاتے ہوئے فہرست سازی کے لیے اپنی درخواست کا بھی ذکر کیا۔ بنچ نے جواب دیا کہ ان کی درخواست پر بھی عدالتی رجسٹری کی فہرست کے لیے غور کیا جائے گا۔

      اگنی ویروں کے پہلے بیچ کے رجسٹریشن سے پہلے 24 جون سے شروع ہونے والی مسلح افواج میں مرکز نے 19 جون کو سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور مفاد عامہ کی عرضیوں (PILs) پر کوئی کارروائی کرنے سے پہلے اس کی سماعت کا حق مانگا۔ اس کے تحت مذکورہ اسکیم کو چیلنج کیا جاسکتا ہے۔

      اپنے انتباہ میں مرکز نے عدالت سے کہا کہ مذکورہ بالا معاملہ (اگنی پتھ اسکیم) میں بغیر دستخطی نوٹس کے کچھ بھی نہ کیا جائے۔ 14 جون کو اسکیم کے آغاز کے بعد سے کم از کم تین PILs سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہیں۔ درخواست گزاروں میں ہرش اجے سنگھ اور دو ایڈوکیٹ وشال تیواری اور ایم ایل شرما شامل ہیں۔

      درخواستوں میں اگنی پتھ اسکیم کو چیلنج کیا گیا ہے، جس میں ساڑھے 17 سے 21 سال کی عمر کے نوجوانوں کو چار سال کے لیے بھرتی کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے اور ان میں سے 25 فیصد کو مزید 15 سال تک برقرار رکھنے کا انتظام ہے جبکہ بقیہ 75 فیصد کو اس کاگ موقع مل سکتا ہے۔ اس کے بعد تقریباً 11.71 لاکھ روپے کا یک وقتی مالیاتی پیکج ملے گا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ریسٹورنٹ میں اب نہیں دینا ہوگا جبراً سروس چارج، CCPAنے جاری کی گائیڈ لائنس

      اس اعلان کے بعد اس اسکیم کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع ہوا۔ بعد میں حکومت نے 2022 میں بھرتی کے لیے عمر کی بالائی حد کو بڑھا کر 23 سال کر دیا۔ سنگھ نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا کہ یہ اسکیم مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، اخلاقیات اور لڑائی کے جذبے کو کمزور کرتی ہے اور ممکنہ طور پر سول سوسائٹی کی عسکریت پسندی کا باعث بنے گی۔

      کریڈٹ کی ادائیگی پر کبھی ڈیفالٹ نہ کریں:

      یہ بھی پڑھیں:
      Part-time PhD courses: کام کرنےوالے پیشہ ورافرادکیلئےپارٹ ٹائم پی ایچ ڈی کورسز، جانیےتفصیل

      ملک میں پرتشدد مظاہروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پی آئی ایل میں کہا گیا ہے کہ اس اسکیم سے غیر یقینی صورتحال، مستقبل کی عدم تحفظ اور سلامتی پر معیشت کو ترجیح دینے کی وجہ سے ملک گیر پرتشدد احتجاج کا سامنا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: