உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    محمد اعظم خان کی ضمانت پر فیصلہ نہیں ہونے پر Supreme Court ناراض، کہا! ہائی کورٹ نہیں کرتا تو ہمیں مداخلت کرنی پڑے گی

    Youtube Video

    Azam Khan Bail Plea: سپریم کورٹ نے کہا کہ 137 دن بعد بھی فیصلہ کیوں نہیں ہو پایا ہے؟ یہ انصاف کا مذاق اڑانا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر الہ آباد ہائی کورٹ اس معاملے میں فیصلہ نہیں کرتی ہے تو ہم مداخلت کرنے پر مجبور ہوں گے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: سپریم کورٹ Supreme Court نے سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور رام پور سیٹ سے ایم ایل اے محمد اعظم خان کی ضمانت Azam Khan Bail Plea پر فیصلہ نہ آنے پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ جسٹس ایل ناگیشور راؤ اور جسٹس بی آر گاوائی کی بنچ نے الہ آباد ہائی کورٹ Allahabad High Court سے پوچھا کہ 87 میں سے 86 مقدمات میں اعظم خان کو ضمانت مل چکی ہے، صرف ایک کیس میں اتنا وقت کیوں لگ رہا ہے؟

      سپریم کورٹ نے کہا کہ 137 دن بعد بھی فیصلہ کیوں نہیں ہو پایا ہے؟ یہ انصاف کا مذاق اڑانا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر الہ آباد ہائی کورٹ اس معاملے میں فیصلہ نہیں کرتی ہے تو ہم مداخلت کرنے پر مجبور ہوں گے۔ سپریم کورٹ اس معاملے کی دوبارہ سماعت 11 مئی کو کرے گی۔ عدالت اس معاملے کی اگلی سماعت 11 مئی کو کرے گی۔ آپ کو بتا دیں کہ محمد اعظم خان گزشتہ دو سال سے سیتا پور جیل میں بند ہیں۔

      یہ بھی پڑھئے: coronavirus test کے نام پر خواتین کے سات کیا جارہا ہے ایسا برتاؤ، دیکھ کر رہ جائیں گے دنگ

      مزید پڑھیں: AR Rahman کی بیٹی خدیجہ کی ہوئی شادی، سامنے آئیں نئے دولہا۔دلہن کی تصویریں: یہاں دیکھئے
      الہ آباد ہائی کورٹ میں اعظم خان کی ضمانت پر بحث
      اس سے قبل 5 مئی کو الہ آباد ہائی کورٹ میں دشمن جائیداد کے معاملے میں اعظم خان کی ضمانت پر 3 گھنٹے تک بحث ہوئی تھی۔ 3.50 بجے سے شام 6.42 بجے تک جاری بحث میں دونوں فریقوں کو سننے کے بعد جسٹس راہل چترویدی کی عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ اعظم خان کے خلاف رام پور کے عظیم نگر پولس تھانہ میں فرضی وقف بنانے اور دشمن کی جائیداد پر ناجائز قبضہ کر کے باؤنڈری وال کھڑی کرنے کا مقدمہ درج ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: