உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تیج بہادر یادو کی نامزدگی منسوخ ہونے کےمعاملے میں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سےطلب کیا جواب

    تیج بہادر یادو: فائل فوٹو

    تیج بہادر یادو: فائل فوٹو

    الیکشن کمیشن نے تیج بہادرکی پرچہ نامزدگی منسوخ کردیا تھا، جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ کا رخ کیا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: سپریم کورٹ نے وارانسی پارلیمانی حلقہ سے نامزدگی رد کئے جانے کے خلاف سرحدی سکیورٹی فورسیز(بی ایس ایف) کے برخاست جوان تیج بہادریادوکی شکایت پر الیکشن کمیشن کوجمعرات تک اپنا موقف رکھنےکا حکم دیا ہے۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی بنچ نے بدھ کے روز الیکشن کمیشن کوہدایت دی کہ وہ درخواست گزارکی شکایت کی جانچ کرکےاپنا موقف کل تک عدالت کے سامنے پیش کرے۔

      تیج بہادرکی جانب سے معروف وکیل پرشانت بھوشن نےسپریم کورٹ کےایک سابقہ حکم کا حوالہ دیتےہوئےکہا کہ انتخابات سےمتعلق عرضیاں مثالی ضابطہ اخلاق (ایم سی سی) کے دوران دائرکی جاسکتی ہیں۔  تیج بہادریادو نےنامزدگی منسوخ ہونےپرسپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

      سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے ٹکٹ پرپرچہ نامزدگی داخل کرنے والے تیج بہادرنے الیکٹورل افسرکے ذریعہ اپنے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے کو چیلنج کیا ہے۔ واضح رہے کہ تیج بہادریادوپہلے آزاد امیدوارکے طورپروزیراعظم نریندرمودی کے خلاف الیکشن لڑرہےتھے۔ بعد میں سماجوادی پارٹی نے انہیں اپنا امیدواربنا دیا۔ تیج بہادرسے پہلے سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ پرشالنی یادووزیراعظم مودی کے خلاف تال ٹھوک رہی تھیں۔ تیج بہادرسے پہلے سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ پرشالنی یادووزیراعظم مودی کے خلاف تال ٹھوک رہی تھیں۔ تیج بہادرکی نامزدگی منسوخ ہونے کے بعد سماجوادی پارٹی کی سابقہ اعلان شدہ امیدوارشالنی یادو اب وارانسی سے میدان میں ہیں۔
      First published: