உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سپریم کورٹ نے اپنا سابقہ فیصلہ واپس لیا ، سنجے مشرا یوپی کے لوک آیکت مقرر

    نئی دہلی: سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق جج سنجے مشرا کو اتر پردیش کا لوک آیکت مقرر کیا ہے۔ جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس پرفل چند پنت کی بینچ نے اس معاملے میں اپنا سابقہ حکم آج واپس لیتے ہوئے جسٹس مشرا کو نیا لوک آیکت مقرر کیا۔

    نئی دہلی: سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق جج سنجے مشرا کو اتر پردیش کا لوک آیکت مقرر کیا ہے۔ جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس پرفل چند پنت کی بینچ نے اس معاملے میں اپنا سابقہ حکم آج واپس لیتے ہوئے جسٹس مشرا کو نیا لوک آیکت مقرر کیا۔

    نئی دہلی: سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق جج سنجے مشرا کو اتر پردیش کا لوک آیکت مقرر کیا ہے۔ جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس پرفل چند پنت کی بینچ نے اس معاملے میں اپنا سابقہ حکم آج واپس لیتے ہوئے جسٹس مشرا کو نیا لوک آیکت مقرر کیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی: سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق جج سنجے مشرا کو اتر پردیش کا لوک آیکت مقرر کیا ہے۔ جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس پرفل چند پنت کی بینچ نے اس معاملے میں اپنا سابقہ حکم آج واپس لیتے ہوئے جسٹس مشرا کو نیا لوک آیکت مقرر کیا۔


      عدالت نے اس سے پہلے الہ آباد ہائی کورٹ کے ہی سابق جج وریندر سنگھ کو لوک آیکت مقرر کیا تھا، لیکن درخواست گزار سچیدانند گپتا عرف سچے نے ان کی تقرری پر سوال کھڑے کئے تھے۔


      عدالت عظمی نے کہا کہ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ آئینی عہدوں پر بیٹھے وزیر اعلی اور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس لوک آیکت کے عہدے کے لئے ایک نام طے نہیں کر پائے۔ عدالت نے گزشتہ 20 جنوری کو فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔


      عدالت عظمی نے درخواست کی سماعت کے دوران یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ لوک آیکت کی تقرری کا معاملہ سلیکشن کمیٹی کو واپس قطعی نہیں بھیجے گی۔ درخواست گزار نے عدالت عظمی سے درخواست کی تھی کہ وہ جسٹس سنگھ کو لوک آیکت مقرر کرنے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔


      عدالت نے جسٹس سنگھ کے بارے میں اسے گمراہ کئے جانے پر اتر پردیش کی حکومت کے خلاف سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ لوک آیکت کے طور پر جسٹس سنگھ کی تقرری کے سلسلے میں اپنے سابقہ کے فیصلے میں کوئی تبدیلی اس وقت تک نہیں کرے گی جب تک اس کی کوئی انتہائی اہم وجہ نظر نہیں آتی۔


      بینچ نے کہا تھا کہ ریاستی حکومت نے گزشتہ ماہ ہونے والی سماعت کے دوران پانچ نام دیئے تھے اور دعوی کیا تھا کہ جسٹس سنگھ کے نام پر تین رکنی سلیکشن کمیٹی کو کوئی اعتراض نہیں ہے، جبکہ حقیقت یہ تھی کہ سلیکشن کمیٹی کے رکن الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے ان کے نام پر اعتراض کیا تھا۔


      درخواست گزار نے عدالت عظمی کو آگاہ کرایا تھا کہ جسٹس چندرچوڑ نے ریاستی حکومت کو اپنا اعتراض تحریری طور پر دیا تھا، جبکہ اسمبلی میں حزب اختلاف کے رہنما سوامی پرساد موریہ نے بھی جسٹس سنگھ کے نام پر اعتراض کیا تھا۔


      غور طلب ہے کہ سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے ریاست میں لوک آیکت کی تقرری کے سلسلے میں اس کے حکم پر عمل نہ کرنے سے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے گزشتہ سال 16 دسمبر کو خود ہی جسٹس سنگھ کو لوک آیکت مقرر کر دیا تھا۔ بینچ نے تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے لوک آیکت کی تقرری کے لئے آئین کے آرٹیکل 142 میں دیئے گئے حقوق کا استعمال کیا تھا۔


      یہ پہلی بار تھا جب سپریم کورٹ نے کسی ریاست کا لوک آیکت مقرر کیا تھا۔ عدالت نے اتر پردیش کے گورنر، وزیر اعلی اور الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو جم کر پھٹکار بھی لگائی تھی، لیکن تقرری کے ٹھیک بعد جسٹس چندرچوڑ نے جسٹس سنگھ کے نام پر اعتراض کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سلیکشن کمیٹی کی میٹنگ میں اس نام پر اتفاق نہیں رائے نہیں ہوا تھا، اس کے باوجود ریاستی حکومت نے جسٹس سنگھ کا نام سپریم کورٹ کے سامنے رکھا تھا۔


      اس معاملے میں سچیدانند گپتا نے ایک پٹیشن دائر کر کے کہا تھا کہ ریاستی حکومت کے نمائندوں نے عدالت عظمی کو گمراہ کیا تھا۔ کورٹ کی تعطیلاتی بینچ نے جسٹس سنگھ کے حلف برداری کی تقریب سے ایک دن پہلے اپنی رہائش گاہ پر سماعت کرتے ہوئے حلف پر روک لگا دی تھی۔

      First published: