உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آسام این آر سی : سپریم کورٹ کی ہدایت ، فہرست سے باہر رکھے گئے 10 فیصد لوگوں کا دوبارہ ہو ویریفکیشن

    سپریم کورٹ کی ہدایت ، فہرست سے باہر رکھے گئے 10 فیصد لوگوں کا دوبارہ ہو ویریفکیشن

    سپریم کورٹ کی ہدایت ، فہرست سے باہر رکھے گئے 10 فیصد لوگوں کا دوبارہ ہو ویریفکیشن

    عدالت نے کہا ہے کہ جن لوگوں کا نام این آرسی میں شامل ہوچکا ہے ،ان میں سے ہر این ایس کے میں سے دس فیصد لوگوں کے ناموں کا ری ویریفیکشن ہو

    • Share this:
      آسام شہریت کے پانچ الگ الگ معاملہ پر آج سپریم کورٹ کی جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس ایف نریمن کی بینچ کے سامنے سماعت کا جب آغاز ہوا تو جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل ، سینئر ایڈوکیٹ سلمان خورشید اور وکیل آن ریکارڈ فضیل ایوبی پیش ہوئے ، مگر این آرسی کے تعلق سے حکومت کی طرف سے پیش کئے گئے طریقہ کار (ایس او پی )اور فریقین کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ عدالت نے سماعت کے لئے آئندہ 5 ستمبر کی تاریخ مقررکی ہے ۔
      عدالت نے آج یہ آڈر دیا کہ ہر این ایس کے سے دس فیصد لوگوں کا ری ویریفیکشن کرایا جائے ۔عدالت نے کہا ہے کہ جن لوگوں کا نام این آرسی میں شامل ہوچکا ہے ،ان میں سے ہر این ایس کے میں سے دس فیصد لوگوں کے ناموں کا ری ویریفیکشن ہو اوراس عمل میں دس فیصدلوگوں کا انتخاب الگ الگ علاقوں سے ہو کسی ایک جگہ یا مخصوص علاقے سے نہ ہو اورعدالت نے یہ آڈر بھی دیاکہ دوسرے این ایس کے کے افسران ہی ری ویریفیکشن کی کارروائی انجام دیں گے۔
      قابل ذکر ہے کہ اس نتیجہ میں تقریبا 28لاکھ لوگوں کو دوبارہ این آرسی کے عمل سے گزرنا ہوگا؟، حکومت کی طرف سے نئے طریقہ کار میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر کسی درخواست گزارنے اپنی شہریت کے ثبوت میں اپنے باپ کا نام پیش کیا ، مگر اپنی شہریت ثابت نہیں کرسکا اور اس کا نام این آرسی میں نہیں آپا یا ہے ، تو اب وہ اپنی شہریت کے ثبوت کے طور پر اپنے دادااور ماں کا نام بھی پیش کرسکتا ہے ۔
      عدالت نے اس نکتہ پر اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا ایسا کرنے سے مزید دقتیں پیش آنے کا خطرہ لاحق نہ ہوگا اورکیا اس صورت میں خاندانی شجرہ از سرنو نہیں تیا رکرنا پڑے گا اور کیا ایک آدمی کو اپنی شہریت دوبارہ ثابت کرنے کا موقع نہیں دیا جارہا ہے ؟ اس پر اٹارنی جنرل کی دلیل تھی کہ ایسا اس لئے کیا گیا ہے کہ جن لوگوں کا نام این آرسی میں شامل نہیں ہوسکا ہے ، انہیں ایک اورموقع فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنی شہریت ثابت کرسکیں اس پر عدالت نے کہا کہ حکومت اس معاملہ کے تمام پہلوں کا اچھی طرح مطالعہ کرکے ہمیں تحریری طورپر بتائے کہ اس صورت میں اگر مزید دقتیں پیش آئیں تو ان سے کس طرح نمٹاجائے گا ۔
      دریں اثنا جمعیۃعلماء ہند کے وکیل کپل سبل نے آج عدالت سے درخواست کی کہ حکومت نے جو طریقہ کار داخل کیا ہے ، اس میں بہت سی باتوں سے ہمیں اختلاف ہے جو ہم نے تجاویز کی شکل میں آپ کے پاس داخل کردی ہیں ، ہم اس پر اپنی بات رکھنا چاہتے ہیں ،جس پر عدالت نے کہا کہ ہم اس پر آئندہ سماعت پر گفتگو کریں گے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے جو طریقہ کار پیش کیا ہے ، ہم نے اس کا بھی مطالعہ کرلیا ہے اور اس پر سماعت آئندہ 5ستمبر کو ہوگی ۔ چونکہ آج طریقہ کار پر فیصلہ نہیں ہوسکا ، لہذا فارم داخل کرنے کی جو تاریخ 30 اگست مقررتھی اسے آگے بڑھا دیا گیا ہے ۔
      قابل ذکر ہے کہ صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا سید ارشدمدنی آسام شہریت کے معاملہ کو لیکر انتہائی فکرمند ہیں ان کی اس فکرمندی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کل یعنی 27 اگست کو انہوں نے اس حوالہ سے اپنے وکلاء سے نہ صرف ملاقات کی بلکہ اب تک کی پیش رفت کا جائزہ بھی لیا ، مولانا مدنی اب تک کی قانونی کارروائی سے بڑی حد تک مطمئن ہیں ۔
      First published: