ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ برادری کا تذکرہ مذہب کی بنیاد پر ووٹ کی اپیل نہیں : سپریم کورٹ

ایک بار الیکشن نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد وہ اس معاملے میں کوئی مداخلت نہیں کر سکتی۔

  • UNI
  • Last Updated: May 10, 2018 09:09 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ برادری کا تذکرہ مذہب کی بنیاد پر ووٹ کی اپیل نہیں : سپریم کورٹ
سپریم کورٹ آف انڈیا ۔ فائل فوٹو

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس کےانتخابی منشور کو چیلنج کرنے والی پٹیشن آج مسترد کر دی۔چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم كھانولكر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بینچ نے راشٹریہ ہندو سینا کے سربراہ پرمود متالك کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار الیکشن نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد وہ اس معاملے میں کوئی مداخلت نہیں کر سکتی۔

جسٹس چندرچوڑ نے سماعت کے دوران کہا کہ سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ کمیونٹی کا ذکر اور ان کی فلاح و بہبود کی یقین دہانی کرنے یا یا اوپر اٹھانے کی بات کرنے کو مذہب کی بنیاد پر ووٹ کی اپیل نہیں کہا جا سکتا۔ جیسے ہی سماعت شروع ہوئی، چیف جسٹس نے درخواست دہندہ سے سوال کیا کہ وہ کس حیثیت سے یہاں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا،’’میں ایک ووٹر ہوں۔ میں انتخاب کو چیلنج نہیں کر رہا ہوں، لیکن میں کانگریس پارٹی کے منشور پر سوال کھڑا کر رہا ہوں‘‘۔

جسٹس مشرا نے اس پر کہا کہ الیکشن لڑنے کے حق کو آئین کے آرٹیکل 32 کے تحت چیلنج نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب انتخاب میں 48 گھنٹے بچے ہیں ، اس حالت میں کوئی مداخلت بھی نہیں کی جاسکتی ہے۔ اس کے بعد عدالت عظمی نے کہا، ’’درخواست گزار کی دلیلیں سننے کے بعد ہم عرضی میں مداخلت کے حق میں نہیں ہیں۔ انتخاب ختم ہونے کے بعد عرضی گزار عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں‘‘۔

عرضی میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ کانگریس اپنے منشور میں مذہب کی بنیاد پر ووٹ مانگ رہی ہے۔عرضی گزار کی جانب سے کل معاملے کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے فوری سماعت کی درخواست کی گئی تھی، جس کے بعد عدالت عظمی نے سماعت کے لئے آج کی تاریخ مقرر کی تھی۔

First published: May 10, 2018 09:09 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading