ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

عدالتوں میں زبانی تبصرے کی رپورٹنگ سے میڈیا کو نہیں روک سکتے : سپریم کورٹ

جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس ایم آر شاہ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے مدراس ہائی کورٹ کے حالیہ ریمارکس کے خلاف الیکشن کمیشن کی درخواست کی سماعت کے دوران یہ ریمارکس دئے ۔ عدالت نے اس کیس میں فیصلہ بھی محفوظ کرلیا۔

  • UNI
  • Last Updated: May 03, 2021 07:29 PM IST
  • Share this:
عدالتوں میں زبانی تبصرے کی رپورٹنگ سے میڈیا کو نہیں روک سکتے : سپریم کورٹ
عدالتوں میں زبانی تبصرے کی رپورٹنگ سے میڈیا کو نہیں روک سکتے : سپریم کورٹ

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے پیر کو کہا کہ میڈیا کو عدالتوں میں زبانی تبصرے کی رپورٹنگ سے روکا نہیں جاسکتا ، کیونکہ یہ عدالتی عمل اور عوامی مفاد میں ہے ۔ ساتھ ہی عدالتوں کے سخت تبصرے کو ’کڑوی دوا کی ’گھونٹ‘ کے طور پر لیا جانا چاہئے ۔ جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس ایم آر شاہ پر مشتمل ڈویژن بنچ نے مدراس ہائی کورٹ کے حالیہ ریمارکس کے خلاف الیکشن کمیشن کی درخواست کی سماعت کے دوران یہ ریمارکس دئے ۔ عدالت نے اس کیس میں فیصلہ بھی محفوظ کرلیا۔


مدراس ہائی کورٹ نے حال ہی میں ریمارکس دئے تھے کہ کورونا کی دوسری لہر کے لئے الیکشن کمیشن خود ذمہ دار ہے اور اس کے افسران کے خلاف قتل کے الزام میں قانونی چارہ جوئی کی جانی چاہئے۔ جسٹس چندرچوڑ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ آپ قتل کے الزام سے پریشان ہیں۔ اگر میں اپنے بارے میں بات کروں تو میں اس طرح کے ریمارکس نہیں دیتا ، لیکن لوگوں کے حقوق کے تحفظ میں ہائی کورٹ کا بڑا کردار ہے۔ جسٹس شاہ نے کہا کہ ہائی کورٹ کا تبصرہ اسی طرح لیا جانا چاہئے جس طرح کسی ڈاکٹر کی کڑوی دوا لی جاتی ہے۔


کمیشن کی جانب سے راکیش دویدی نے بنچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا’’ہم انتخابات کرواتے ہیں۔ حکومت اپنے ہاتھ میں نہیں لیتے ۔ اگر وزیراعلیٰ یا وزیر اعظم دور دراز کے علاقے میں دو لاکھ لوگوں کی ریلی نکال رہے ہیں تو پھر کمیشن بھیڑ پر گولی نہیں چلواسکتا اورنہ ہی لاٹھیاں چلواسکتا ہے ۔ اسے دیکھنا ڈیزاسٹرمینجمنٹ کمیٹی کا کام ہے۔


اس پر جسٹس شاہ نے پوچھا کہ کمیشن نے بعد میں 500 سے زیادہ ریلیوں میں شرکت نہ کرنے سے متعلق ہدایت نامہ جاری کیا ، جو اس سے پہلے ہوسکتا تھا ۔ اس پر دویدی نے کہا کہ بنگال کی صورتحال کے پیش نظر بعد میں ایسا کیا گیا تھا۔ تمل ناڈو میں ایسا نہیں تھا۔ وہاں بھی 4 اپریل کو الیکشن مکمل ہوا تھا۔ جسٹس شاہ نے کہا ’’ہم سمجھتے ہیں کہ آپ نے پوری صلاحیت کے مطابق اپنا کام کیا‘‘ ہم شاذو نادر سخت تبصرے بھی کرتے ہیں تاکہ لوگوں کے مفاد میں کام کیا جاسکے‘‘۔

جسٹس چندرچوڑ نے کہا کہ سماعت کے دوران میڈیا کو عدالت کے زبانی تبصرے کی اطلاع دینے سے نہیں روکا جاسکتا۔ یہ تبصرے عدالتی عمل کا حصہ ہیں اور عوامی مفاد میں ہیں۔ یہ اتنا ہی اہم ہے جتنا عدالت کا باقاعدہ حکم۔ عدالت کا ارادہ کسی ادارے کو نقصان پہنچانا نہیں ہے ، اگر تمام ادارے مضبوط ہوں تو جمہوریت کی صحت کے لئے اچھا ہے۔

جب دوویدی نے مزید دلیل دینا شروع کیا تو جسٹس چندرچوڑ نے کہا ’’ہم نے آپ کے نکات کو نوٹ کر لیا ہے۔ ہم ہائی کورٹ کی عزت برقرار رکھتے ہوئے متوازن آرڈر دیں گے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 03, 2021 06:22 PM IST