ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

آسام شہریت معاملہ: سپریم کورٹ کی متاثرین سے متعلق بڑی ہدایت، عدالت کا فیصلہ متاثرین کےزخموں پرمرہم: مولانا ارشد مدنی 

آسام شہریت معاملہ میں مختلف محاذ پرکامیاب قانونی جنگ لڑنے والی تنظیم جمعیۃعلماء ہند نے اس سلسلہ میں متاثرین کو ہونے والی دشواریوں کو محسوس کرتے ہوئے آمسوکےساتھ مل کرسپریم کورٹ میں دوعرضیاں داخل کی تھیں۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
آسام شہریت معاملہ: سپریم کورٹ کی متاثرین سے متعلق بڑی ہدایت، عدالت کا فیصلہ متاثرین کےزخموں پرمرہم: مولانا ارشد مدنی 
مولانا سید ارشد مدنی: فائل فوٹو

نئی دہلی: آسام میں شہریت کےمسئلہ کوکچھ ایسی قانونی پیچیدگیوں میں الجھادیا گیا ہےکہ متاثرین اورعام لوگوں کے سامنے نت نئی رکاوٹیں آکھڑی ہوتی ہیں یا پھرلوگوں کوپریشان کرنےکے لئے دانستہ رکاوٹیں کھڑی کردی جاتی ہیں، ایک طرف تواین آرسی سے باہرکئے گئےلوگ جہاں اپنی شہریت ثابت کرنےکےلئے جان توڑجدوجہد میں مصروف ہیں وہیں دوسری طرف جن لوگوں کے نام این آرسی میں شامل ہوچکے ہیں، اب آبجکشن (اعتراض) کی سہولت کا سہارالے کران کی شہریت کوبھی مشکوک بنانے کی کوشش ہورہی ہے اوراس میں بڑی حدتک حکام بھی متاثرین کی جگہ ان لوگوں کی مددکرتے دکھائی دے رہے ہیں جو ایک منصوبہ بند سازش کے تحت ریاست کے حقیقی شہریوں کی شہریت پر سوال اٹھارہے ہیں۔


واضح رہےکہ این آرسی میں شامل ذرائع کے مطابق ساڑھے تین لاکھ لوگوں کی شہریت کے دعویٰ پرکچھ لوگوں نےاعتراض درج کرایا ہے، چنانچہ اب نئےسرے سےتصدیق اورگواہی کےلئےحکام باقاعدہ نوٹس جاری کرکے انہیں ایسی جگہ طلب کررہے جوان کےآبائی مقامات سےسودوسونہیں بلکہ پانچ پانچ اورچھ چھ سو کلومیٹردورہے۔ اس سے متاثرین کوتصدیق اور گواہی کےعمل کی تکمیل میں زبردست مصیبتوں کا سامنا ہے۔


آسام شہریت معاملہ میں مختلف محاذ پرکامیاب قانونی جنگ لڑنے والی تنظیم جمعیۃعلماء ہند نے اس سلسلہ میں متاثرین کو ہونے والی دشواریوں کو محسوس کرتے ہوئے آمسوکے ساتھ مل کراپنے وکلاء سینئرایڈوکیٹ کپل سبل ، سینئرایڈوکیٹ اندراجے سنگھ اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ فضیل ایوبی کے توسط سے سپریم کورٹ میں دوعرضیاں داخل کی تھیں، ان عرضیوں میں فاضل عدالت کو بتایا کو بتایا گیا تھاکہ جس طرح دوردرازکے مراکزپرتصدیق اورگواہی کیلئے لوگوں کو طلب کیاجارہا ہے اس سے نہ صرف انہیں سخت دشواریوں کاسامنا ہے بلکہ وہ یکسوئی کے ساتھ تصدیق وگواہی کے عمل کو پورا کرنے میں خودکو لاچاروبے بس بھی محسوس کررہے ہیں، اس لئے اس عمل کو آسان بنایا جانا چاہئے اور گواہی وتصدیق کے لئے لوگوں کوان کے اپنے آبائی علاقوں کےمراکز پرہی طلب کیاجانازیادہ مناسب اور بہترہوگا۔


عدالت نے اسٹیٹ کوآرڈینیٹرسے پوچھا سوال

اس عرضی پرچیف جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس اے آرنریمن کی دورکنی بینچ نے آج سماعت کی۔ عدالت نے سماعت کےدوران اسٹیٹ کوآرڈینیٹرپرتیک ہزیلاسے پوچھا کہ کیوں نہ کم سےکم تکلیف دیتے ہوئے لوگوں کی گواہی اورتصدیق کا عمل ان کےاپنے ضلع اور تحصیل میں مکمل کرایاجائے، اس پرپرتیک ہزیلانے جواب دیاکہ جن کے خلاف خاندانی شجرہ کولیکراعتراضات ہیں اس کےلئے ہماری کوشش ہےکہ گواہی اورتصدیق کا بندوبست مقامی تحصیل یا اسی سرکل میں کیاجائے۔ اس پر فاضل عدالت نے اپنا حکم جاری کرتے ہوئے انہیں یہ ہدایت کی کہ درخواستوں میں جو گزارشات کی گئیں ہیں ان کونظرمیں رکھتے ہوئے لوگوں کوحتی الامکان سہولت فراہم کی جائے اورکم سے کم فاصلہ پرطلب کرکے تمام کارروائیاں مکمل کی جائیں۔

جمعیۃ علما نے دفعہ 141 کا دیا حوالہ

قابل ذکر ہے کہ شہریت کی دفعہ 141 کے تحت یہ آزادی فراہم کی گئی ہے کہ کوئی بھی شخص کسی دوسرے کی شہریت پراعتراض کرسکتا ہے۔ اس دفعہ کولیکرجمعیۃعلماء ہند کے وکلاء نےعدالت میں سخت اعتراض کیا تھا اوردلیل دی تھی کہ بعض لوگ محض ذاتی دشمنی میں بھی اس آزادی کا فائدہ اٹھاکرکسی کی شہریت پراعتراض اٹھا سکتے ہیں، اس لئے اعتراض غلط ثابت ہونے پراس دفعہ میں سزاکا بھی التزام ہونا چاہئےتاکہ کسی پختہ ثبوت کے بغیرکوئی کسی کی شہریت پراعتراض اٹھانےکا حوصلہ نہ کرسکے، مگر تب عدالت نے اس درخواست کو نامنظورکردیا تھا اوراب اسی آزادی کا فائدہ اٹھاکر کچھ لوگوں نے ذرائع کے مطابق تقریباساڑے تین لاکھ لوگوں کی شہریت پرسوال کھڑاکردیا ہے۔

مولانا سید ارشد مدنی کا اظہاراطمینان
جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے آج کی قانونی پیش رفت پراطمینان کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے اس فیصلہ سے اب گواہی اور تصدیق کے عمل میں لوگوں کو قدرآسانی میسرہوجائے گی۔ تاہم انہوں نے اس بات پرسخت افسوس کااظہارکیا کہ ریاست کے حقیقی شہریوں کے تعلق سے متعلقہ حکام کا رویہ غیرجانبدارانہ نہیں ہے چنانچہ وہ لوگوں کو مدداورسہولت فراہم کرنے کی جگہ ان کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کرتے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند نے بہت پہلے دفعہ 141کے تحت دی گئی آزادی کے تعلق سے جس خدشہ کا اظہارکیا تھا بالآخرسچ ثابت ہوا اس آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے بعض لوگوں نے ایسے لوگوں کی شہریت پر دوبارہ اعتراض کھڑاکردیا ہے، جو اپنی شہریت پہلے ہی ثابت کرچکے ہیں اورجن کا نام این آرسی میں شامل ہوچکا ہے مگراب ایسے لوگوں کونوٹس جاری کرکے تصدیق اورگواہی کیلئے جس طرح ریاست کے دوردراز علاقوں میں طلب کیا گیا ہے وہ حکام کے عدم تعاون رویہ کو ظاہر کردیتاہے۔

دفعہ 141 کا غلط استعمال نہ ہونے دینے کا مطالبہ

مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ ان لوگوں میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے، جو انتہائی غریب اورغیرتعلیم یافتہ ہیں انہیں سفراوردیگرمصارف کولیکر سخت دشواریاں درپیش ہیں۔ انہوں نےکہا کہ امید افزابات یہ ہے کہ عدالت نے آج ان لوگوں کوہرممکن سہولت فراہم کرنے کی باضابطہ ہدایت جاری کردی ہے، اس لئے ہم امید کرتے ہیں کہ اعتراض کا شکارہوئے یہ تقریباً ساڑے تین لاکھ لوگ گواہی اورتصدیق کے اس نئے عمل سے بھی سرخروہوکرباہر نکلیں گے۔ مولانا مدنی نے آخرمیں کہا کہ آسام میں دفعہ 141کے تحت دی گئی آزادی کا غلط استعمال ہورہا ہے، ایسے میں ریاستی حکومت بالخصوص اسٹیٹ کوآڈینیٹرکی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس دفعہ کا غلط استعمال آگے نہ ہوتاکہ اس سے پیدا ہونے والی دشواریوں سے لوگ محفوظ رہ سکیں۔ قابل ذکر ہےکہ صدرجمعیۃعلماء آسام مولانا مشتاق عنفراین آرسی کے کام کوشروع ہی سے دیکھ رہے ہیں اورآج کی بھی عدالتی کارروائی کےدوران جمعیۃعلماء آسام اپنی ریاستی یونٹوں کے ساتھ موجود تھے۔

 
First published: Apr 10, 2019 09:26 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading