ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نربھیا معاملہ: مجرمین کی پھانسی کا راستہ صاف، سپریم کورٹ نے خارج کردی ونے اور مکیش کی کیوریٹیو پٹیشن

نربھیا آبروریزی معاملے کے مجرمین کو 22 جنوری کو پھانسی دی جانی ہے۔ سپریم کورٹ میں کیوریٹیو پٹیشن خارج ہونے کے بعد قصورواروں کے پاس صدر جمہوریہ کے یہاں رحم کی درخواست دینےکا آخری متبادل باقی ہے۔

  • Share this:
نربھیا معاملہ: مجرمین کی پھانسی کا راستہ صاف، سپریم کورٹ نے خارج کردی ونے اور مکیش کی کیوریٹیو پٹیشن
نربھیا معاملہ میں سپریم کورٹ نے کیوریٹیو پٹیشن خارج کردی۔

نئی دہلی: دہلی کے نربھیا اجتماعی آبروریزی معاملے میں پٹیالہ ہاؤس کورٹ سے پھانسی کی سزا ہونے کے بعد دو مجرمین ونے شرما اور مکیش کی طرف سے ڈالی گئی کیوریٹیو پٹیشن سپریم کورٹ نے خارج کردی ہے۔ پھانسی کی تاریخ طے ہونےکے بعد مجرم ونے شرما اور مکیش سنگھ نے کیوریٹیو پٹیشن دائرکی تھی۔ کیوریٹیو پٹیشن پر سماعت کھلی عدالت میں نہ ہوکر ججوں کے چیمبر میں دوپہر پونے دو بجے ہوئی، جس میں کسی بھی فریق کے وکیل کو موجود ہونے اوربحث کرنےکی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ جسٹس این وی رمنا، ارون مشرا، آر ایف نریمن، آر بھانو متی اور اشوک بھوشن کی بینچ نے اس معاملے پر سماعت کی۔ ایسے میں نربھیا کے مجرمین کو 22 جنوری کو پھانسی دیئے جانےکا راستہ صاف ہوگیا ہے۔ حالانکہ ابھی ان کے پاس صدر جمہوریہ کے پاس رحم کی درخواست بھیجنےکا متبادل باقی ہے۔


نربھیا کے مجرم ونے شرما کے وکیل اے پی سنگھ نے دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں 9 جنوری اور مکیش سنگھ کے وکیل ورندا گروور نے 10 جنوری کو کیوریٹیو پٹیشن داخل کی تھی۔ پٹیشن میں دونوں مجرمین کی پھانسی کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنےکا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ونے شرما نےکہا کہ سپریم کورٹ سمیت سبھی عدالتوں نے میڈیا اور لیڈروں کے دباؤ میں آکر انہیں قصوروار ٹھہرایا ہے۔ غریب ہونےکے سبب اسے موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ ونے شرما نے دلیل دی کہ جیسکا لال قتل معاملے میں مجرم منو شرما نے انتہائی دردناک قتل کیا تھا، لیکن اسے صرف عمر قید کی سزا دی گئی۔


نربھیا معاملہ میں سپریم کورٹ نے کیوریٹیو پٹیشن خارج کردی ہے، جس سے پھانسی کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔


نربھیا کی ماں نے کہا- 22 جنوری کو بیٹی کو ملےگا انصاف

قصورواروں کی کیوریٹیو پٹیشن پر نربھیا کی ماں آشا دیوی نےکہا، 'قصورواروں نے پھانسی میں بس تاخیر کرنےکےلئےکیوریٹیو پٹیشن داخل کی ہے۔ مجھے پورا بھروسہ ہےکہ آج بھی ان کی عرضی خارج ہوجائےگی۔ 22 جنوری کی صبح چاروں قصورواروں کو پھانسی پر لٹکایا جائےگا اور نربھیا کو انصاف ملےگا'۔



کیوریٹیو پٹیشن کو عدالتی نظام میں انصاف پانے کے آخری راستے کے طور پرجانا جاتا ہے۔ کیوریٹیو پٹیشن آخری راستہ ہے، جس کے ذریعہ کوئی ایسی بات جو نا سنی گئی ہو یا ثبوت کو عدالت سنتی ہے۔ یہ سپریم کورٹ کے ذریعہ دی گئی سہولت ہے، جو اس کی ہی طاقت کے خلاف کام کرتی ہے۔ کیوریٹیو پٹیشن میں پورے فیصلے پر بحث نہیں ہوتی ہے۔ اس میں صرف کچھ نکات پر دوبارہ سے غورکیا جاتا ہے۔ عدالت میں آخری امید کے طور پر اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ نربھیا معاملے کے مجرم اپنی پھانسی کی سزا ٹالنے کی آخری کوشش کے طور پر اسے اپنا رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کسی بھی طرح سے ان کی پھانسی کی سزا عمر قید میں تبدیل ہوجائے۔
First published: Jan 14, 2020 03:38 PM IST