உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جے این یو تنازعہ : عدالت عظمیٰ عمر خالد کی عرضی پر سماعت کرے گی

    نئی دہلی۔ سپریم کورٹ ،ملک مخالف نعرے لگائے جانے کے معاملے میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی (ے این یو )کے ملزم طالب علم عمر خالد اور انربن بھٹاچاریا کی جانب سے داخل اس عرضی پر سماعت کرنے کے لئے تیار ہوگئی ہے جس میں انہوں نے عدالت کے سامنے خود سپردگی کے دوران اپنے لئے سکیورٹی مانگی ہے۔

    نئی دہلی۔ سپریم کورٹ ،ملک مخالف نعرے لگائے جانے کے معاملے میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی (ے این یو )کے ملزم طالب علم عمر خالد اور انربن بھٹاچاریا کی جانب سے داخل اس عرضی پر سماعت کرنے کے لئے تیار ہوگئی ہے جس میں انہوں نے عدالت کے سامنے خود سپردگی کے دوران اپنے لئے سکیورٹی مانگی ہے۔

    نئی دہلی۔ سپریم کورٹ ،ملک مخالف نعرے لگائے جانے کے معاملے میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی (ے این یو )کے ملزم طالب علم عمر خالد اور انربن بھٹاچاریا کی جانب سے داخل اس عرضی پر سماعت کرنے کے لئے تیار ہوگئی ہے جس میں انہوں نے عدالت کے سامنے خود سپردگی کے دوران اپنے لئے سکیورٹی مانگی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ سپریم کورٹ ،ملک مخالف نعرے لگائے جانے کے معاملے میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی (ے این یو )کے ملزم طالب علم عمر خالد اور انربن بھٹاچاریا کی جانب سے داخل اس عرضی پر سماعت کرنے کے لئے تیار ہوگئی ہے جس میں انہوں نے عدالت کے سامنے خود سپردگی کے دوران اپنے لئے سکیورٹی مانگی ہے۔ جسٹس بی ڈی احمد کی صدارت والی بنچ عرضی کو منظور کرتے ہوئے اس پر سماعت کے لئے تیار ہوگئی ہے۔عرضی پر آج ہی سماعت ہوگی ۔اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ اس عرضی پر بھی سماعت کرنے کے لئے متفق ہوگئی ہے جس میں دہلی پولس کو جے این یو احاطے میں داخل ہونے اور خالد اور دیگر طلبا کو گرفتار کرنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیاگیا ہے ۔یہ عرضی ایک وکیل کی جانب سے دائیر کی گئی ہے۔


      خالد اور دیگر طلبا پر جے این یو احاطے کے اندر ملک مخالف نعرے لگانے کا الزام ہے۔یہ مبینہ نعرے بازی 9فروری کو احاطے میں منعقد ایک پروگرام میں کی گئی تھی ۔اس معاملے میں جے این یو کے طلبہ لیڈر کنہیا کمار کو پولس پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے ۔عمر خالد اور اس کے ساتھ چار دیگر طلبا کنہیا کمار کی گرفتاری کے بعد سے ہی فرار ہو گئے تھے۔یہ لوگ پیر کی رات اچانک جے این یو لوٹ آئے ۔ان لوگوں نے خود کو بے قصور بتایا ہے ۔دوسری جانب دہلی پولس کا کہنا ہے کہ انہیں خود سپردگی کرنی چاہے اور اگر وہ بے قصور ہیں تو اپنی بے گناہی کا ثبوت پیش کرنا چاہیے۔

      First published: