உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گئوركشا کے نام پر تشدد کے خلاف عرضی پر سپریم کورٹ سماعت کیلئے تیار ، مرکز کو وکیل مقرر کرنے کی ہدایت

    ملک کی چھ ریاستوں میں گئوركشا اور اس کو لے کر اقلیتوں اور دلتوں کے خلاف تشدد پر اب سپریم کورٹ نظر رکھےگا ۔

    ملک کی چھ ریاستوں میں گئوركشا اور اس کو لے کر اقلیتوں اور دلتوں کے خلاف تشدد پر اب سپریم کورٹ نظر رکھےگا ۔

    ملک کی چھ ریاستوں میں گئوركشا اور اس کو لے کر اقلیتوں اور دلتوں کے خلاف تشدد پر اب سپریم کورٹ نظر رکھےگا ۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : ملک کی چھ ریاستوں میں گئوركشا اور اس کو لے کر اقلیتوں اور دلتوں کے خلاف تشدد پر اب سپریم کورٹ نظر رکھےگا ۔ عدالت عظمی گئو رکشا کے نام تشدد سے متعلق عرضی پر سماعت کیلئے تیارہوگئی ۔ ساتھ ہی ساتھ سپریم کورٹ نے چھ ریاستوں سے تشدد سے وابستہ معاملات کی معلومات بھی فراہم کرنے کیلئے کہاہے۔ خاص بات یہ ہے سپریم کورٹ نے جن چھ ریاستوں کو یہ بات کہی ہے ، ان میں سے پانچ ریاستوں میں بی جےپی کی حکومت کی ۔
      مفاد عامہ کی تین عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے جمعہ کو سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے کہا کہ وہ ایک وکیل مقرر کرے ، جو اس کیس میں سپریم کورٹ کی مدد کرے گا۔کورٹ نے درخواست کی کاپی چھ ریاستوں کو بھیجنے کا بھی حکم دیا ۔ یہ ریاستیں کورٹ کو اپنے یہاں ہوئے معاملوں سے آگاہ کرائیں گی ۔ ان ریاستوں میں مہاراشٹر، گجرات، جھارکھنڈ، ہریانہ، مدھیہ پردیش اور اترپردیش شامل ہے۔
      ایک عرضی گزار تحسین پوناوالا کی درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان ریاستوں میں گئو رکشا کے نام پر تشدد کی آزادانہ اور منصفانہ جانچ ہونی چاهئے۔ ماملہ کی اگلی سماعت 7 نومبر کو ہوگی۔ جسٹس دیپک مشرا کی قیادت والی ایک ڈویژن بنچ نےان معاملات میں عدالت عظمی کی مداخلت کی درخواست کی سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔ بنچ میں جسٹس امیتابھ رائے بھی شامل ہیں۔
      First published: