ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

كووڈ۔ 19: قبرستان میں لاش دفنانے پر روک سے متعلق عرضی بمبئی ہائی کورٹ کو بھیجی گئی

درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ قبرستان گنجان آبادی والے علاقہ میں ہے اور یہاں کورونا وائرس مہلوکین کی لاش دفن کرنے سے علاقے میں مٹی اور پانی کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے، جس سے ارد گرد کے لوگ متاثر ہو سکتے ہیں۔

  • UNI
  • Last Updated: May 04, 2020 02:39 PM IST
  • Share this:
كووڈ۔ 19: قبرستان میں لاش دفنانے پر روک سے متعلق عرضی بمبئی ہائی کورٹ کو بھیجی گئی
غیرملکی تبلیغی جماعت کے اراکین کا ویزا منسوخ ہو نے کے بعد ہندوستان میں کیوں ہیں؟ سپریم کورٹ کا مرکزی حکومت سے سوال

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے کورونا وائرس ’كووڈ 19‘ میں جان گنوا چکے مسلمانوں کو قبرستان میں دفن کرنے پر عارضی پابندی لگائے جانے سے متعلق پیر کے روز کیس کو دوبارہ بمبئی ہائی کورٹ کو بھیج دیا۔ جسٹس روهنگٹن فالی نریمن اور جسٹس اندرا بنرجی کی بینچ نے پردیپ گاندھی کی ’اسپیشل لیو پٹیشن‘(ایس ایل پی ) کی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ سماعت کرتے ہوئے یہ معاملہ دوبارہ ہائی کورٹ کو بھیج دیا اور سماعت دو ہفتے میں مکمل کرنے کی ہدایت بھی دی۔


بنچ نےکہا کہ درخواست میں کی گئی مانگ کو مسترد کرنے کا ہائی کورٹ کا حکم عارضی تھا تو ہائی کورٹ موجودہ تناظرمیں درخواست پر دوبارہ غور کرے۔

درخواست گزار نے کورونا مہلوکین کی لاش کو اپنے رہائشی علاقے کے آگے قبرستان میں دفنانے پر عارضی روک کا مطالبہ کیا ہے۔ بمبئی ہائی کورٹ نے گزشتہ 27 اپریل کو گاندھی کی یہ درخواست مسترد کر دی تھی، جسے انہوں نے عدالت میں چیلنج کیا تھا۔




درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ قبرستان گنجان آبادی والے علاقہ میں ہے اور یہاں کورونا وائرس مہلوکین کی لاش دفن کرنے سے علاقے میں مٹی اور پانی کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے، جس سے ارد گرد کے لوگ متاثر ہو سکتے ہیں۔ اسی بنیاد پر ان قبرستانوں میں ایسی لاشیں دفن کرنے پر فوری روک لگائی جائے۔ ان لاشوں کو ایسے قبرستانوں میں دفن کی ہدایت دی جائے جو آبادی سے دور ہوں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت نے 30 مارچ کو ایک سرکلر جاری کر کے کوروناوائرس سے ہونے والی موت کے معاملے میں لاش دفنانے پر روک لگا دی تھی. سرکلر میں کہا گیا تھا کہ وبا کے دوران کورونا وائرس متاثر لاشوں کو جلایا جائے گا، لیکن چند دن بعد نو اپریل کو حکومت نے ایک سرکلر جاری کرکے ایسی لاشوں کو دفن کرنے کی اجازت دے دی۔

سرکلر میں 20 قبرستانوں کو ایسی لاشوں کو دفن کرنے کے لئے نشان زد کیا گیا، ان میں باندرہ (ویسٹ) کے تین قبرستان بھی شامل ہیں. درخواست گزار کی رہائشی کالونی بھی باندرا (ویسٹ) کے قبرستان کے سامنے ہی ہے۔ جمعیت علمائے ہند نے بھی ’پردیپ گاندھی بمقابلہ مہاراشٹر حکومت‘ معاملہ میں فریق بننے کی کورٹ سے درخواست کی ہے۔ مسلم تنظیم نے پردیپ گاندھی کی درخواست میں یہ کہتے ہوئے فریق بننے کی اجازت مانگی ہے کہ مسلمانوں کو لاش دفنانے سے منع کرنا آئین میں فراہم کردہ مذہبی آزادی کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: May 04, 2020 02:39 PM IST