உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آر بی آئی کو سپریم کورٹ کی پھٹکار، معمولی قرض لینے والے غریب کسانوں پر ہوتی ہے کارروائی ، امیر بیرون ممالک کرتےہیں عیش

    نئی دہلی : سپریم کورٹ نے بینکوں کے ڈوبے ہوئے قرض پر ریزرو بینک اور مرکزی حکومت کو آج سخت پھٹکار لگاتے ہوئے پوچھا کہ آخر کس طرح لوگ اور كمپنیاں بینکوں کا کروڑوں روپے کا قرض بغیر ادا کیے ملک سے باہر فرار ہو جاتے ہیں ۔

    نئی دہلی : سپریم کورٹ نے بینکوں کے ڈوبے ہوئے قرض پر ریزرو بینک اور مرکزی حکومت کو آج سخت پھٹکار لگاتے ہوئے پوچھا کہ آخر کس طرح لوگ اور كمپنیاں بینکوں کا کروڑوں روپے کا قرض بغیر ادا کیے ملک سے باہر فرار ہو جاتے ہیں ۔

    نئی دہلی : سپریم کورٹ نے بینکوں کے ڈوبے ہوئے قرض پر ریزرو بینک اور مرکزی حکومت کو آج سخت پھٹکار لگاتے ہوئے پوچھا کہ آخر کس طرح لوگ اور كمپنیاں بینکوں کا کروڑوں روپے کا قرض بغیر ادا کیے ملک سے باہر فرار ہو جاتے ہیں ۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : سپریم کورٹ نے بینکوں کے ڈوبے ہوئے قرض پر ریزرو بینک اور مرکزی حکومت کو آج سخت پھٹکار لگاتے ہوئے پوچھا کہ آخر کس طرح لوگ اور كمپنیاں بینکوں کا کروڑوں روپے کا قرض بغیر ادا کیے ملک سے باہر فرار ہو جاتے ہیں ۔
      عدالت عظمی کی جانب سے یہ تبصرہ ایک معاملے کی سماعت کے دوران کیا گیا، جس میں حال ہی میں ایک اخبار میں آر ٹی آئی کے حوالے سے شائع ہونے والی اس خبر پر ازخود نوٹس لینے کی درخواست کی گئی ۔ خبر کے مطابق 29 سرکاری بینکوں نے 2013 سے 2015 کے درمیان تقریبا 2.11 لاکھ کروڑ روپے کے قرض کے معاملات کو بند کر دیا ہے۔ درخواست دہندہ نے آر بی آئی سے ان کمپنیوں اور افراد کی فہرست سونپے جانے کو کہا تھا، جن پر پبلک سیکٹر کے بینكو ں کا 500 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ کا قرض واجب الادا ہے۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی صدارت والے بنچ نے آر بی آئی کی جانب سے دوہفتہ پہلے ایسے لوگوں کی سونپی گئی فہرست پر آج وزارت خزانہ اور انڈ ین بینک ایسوسی ایشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پوچھا کہ قرض خواہوں سے وصولی کے لئے کیا قدم اٹھائے جا رہے ہیں۔
      عدالت نے آر بی آئی سے سخت لہجے میں کہا کہ ایک ریگولیٹر کے طور پر اس کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اس طرح کے معاملات پر وہ سخت نگرانی رکھے۔ اس معاملے میں آر بی آئی کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ چند ہزار کے قرض لینے والے کسانوں سے قرض کی رقم وصول کرنے کے تمام اقدامات کئے جاتے ہیں ،جبکہ ہزاروں کروڑ روپے کا قرض لینے والے لوگ اپنی کمپنیوں کو ديواليہ بتا کر بیرون ملک جاکر عیش کر رہے ہیں۔معاملے کی آئندہ سماعت 26 اپریل کو ہوگی۔
      First published: