ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

تیندولکر سے بھارت رتن واپس لینے کی درخواست پر سپریم کورٹ نے دیا یہ جواب

جسٹس دیپک مشرا اور ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے کہا کہ ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو تیندولکر کے خلاف لگائے الزامات سے نمٹنے

  • Pradesh18
  • Last Updated: Jul 18, 2016 11:16 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
تیندولکر سے بھارت رتن واپس لینے کی درخواست پر سپریم کورٹ نے دیا یہ جواب
جسٹس دیپک مشرا اور ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے کہا کہ ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو تیندولکر کے خلاف لگائے الزامات سے نمٹنے

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے آج اس درخواست کو مسترد کر دیا ، جس میں عظیم ترین کرکٹر سچن تندولکر کو دیا گیا بھارت رتن ایوارڈ واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عرضی میں ایوارڈ واپس لینے کے لئے ملک کے اعلی ترین شہری اعزاز کے مبینہ غلط استعمال کو بنیاد بنایا گیا تھا۔ جسٹس دیپک مشرا اور ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے کہا کہ ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو تیندولکر کے خلاف لگائے الزامات سے نمٹنے۔

عرضی گزار وی کے ناسوا نے الزام لگایا تھا کہ بہت سے مصنفین نے اپنی کتابوں میں تیندولکر کا ذکر بھارت رتن کے طور پر کیا ہے اور انہوں نے اپنی کتاب کا عنوان بھی اسی طریقے سے رکھا ہے۔ درخواست گزار نے ساتھ ہی الزام لگایا کہ ایوارڈ سے نوازا ے جانے کے بعد بھی تیندولکر نے کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لینا جاری رکھا۔ بنچ نے کہا کہ اگر تیندولکر نے کتاب لکھی ہوتی اور اس میں 'بھارت رتن کا لفظ شامل ہوتا ، تو معاملہ الگ ہوتا ، لیکن جب کوئی تیسرا شخص کتاب لکھ رہا ہے ، تو انہیں جوابدہ نہیں بنایا جا سکتا۔

بنچ نے عرضی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر مدعا علیہ نمبر دو 'بھارت رتن لفظ کا استعمال کرتے ہوئے کتاب لکھتا جو معاملہ الگ ہوتا۔ جب کوئی تیسرا شخص کتاب لکھ رہا ہے تو ہمارے ذہن میں کوئی شک نہیں ہے کہ مدعا علیہ نمبر دو کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ناسوا نے اپنی درخواست میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے 10 اگست 2015 کے حکم کو چیلنج کیا تھا ، جس کے ذریعہ تیندولکر کے بھارت رتن ایوارڈ کے مبینہ طور پر غلط استعمال سے متعلق عرضی کو مسترد کر دیا گیا تھا۔

First published: Jul 18, 2016 11:16 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading