உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں و کشمیر تشدد : سپریم کورٹ کا شبیر کی لاش قبر سے نکال کر پوسٹ مارٹم کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ: فائل فوٹو

    سپریم کورٹ: فائل فوٹو

    جسٹس پناكي چندر گھوش اور جسٹس امیتابھ رائے پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سرینگر کے ضلع و سیشن جج کی نگرانی میں لاش کو قبر سے نکالنے اور اس کا پوسٹ مارٹم کرانے کا حکم دیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر میں برہان وانی کی موت کے بعد ہونے والے مظاہروں کے دوران مرنے والے 26 سالہ شبیر احمد کی لاش قبر سے نکال کر پوسٹ مارٹم کرانے کا آج حکم دیا۔  جسٹس پناكي چندر گھوش اور جسٹس امیتابھ رائے پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سرینگر کے ضلع و سیشن جج کی نگرانی میں لاش کو قبر سے نکالنے اور اس کا پوسٹ مارٹم کرانے کا حکم دیا۔ عدالت نے اس کے لئے متعلقہ ضلع و سیشن جج کو اپنی پسند کے حکام کا تعاون لینے کی چھوٹ بھی دی۔
      معاملے کی اگلی سماعت کے لئے پانچ ستمبر کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے بنچ نے کہا کہ یہ معاملہ سنگین ہے اور ایسی صورتحال سے انسانی لحاظ اور مکمل حساسیت کے ساتھ نمٹا جانا چاہئے۔ پولس کا دعوی ہے کہ شبیر کو مظاہرے کے دوران مارا گیا جبکہ اس کے باپ کا دعوی ہے کہ 10 جولائی کو پولس نے اس کو گھر میں داخل ہوکر مارا تھا۔
      اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے بنچ کو یقین دلایا کہ تحقیقات میں اعلی سطح کی شفافیت برتی جائے گی اور افسران معاملے کی تہہ تک جانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد معاملے کی سماعت ہو اور مرنے والے نوجوان کے والد کو بھی تحقیقات میں شامل کیا جانا چاہئے۔
      First published: