ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

طلاق ثلاثہ کے معاملہ میں مسلم خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لے گا سپریم کورٹ

نئی دہلی : طلاق ثلاثہ کے مسئلے پر مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی کے مطالبے کی مسلم تنظيموں کی طرف سے مخالفت کیے جانے کے درمیان سپریم کورٹ نے آج کہا کہ وہ اس پر غور کرے گا کہ کیا واقعی مسلم خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور کس حد تک اس میں مداخلت کی جا سکتی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jun 29, 2016 06:10 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
طلاق ثلاثہ کے معاملہ میں مسلم خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لے گا سپریم کورٹ
نئی دہلی : طلاق ثلاثہ کے مسئلے پر مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی کے مطالبے کی مسلم تنظيموں کی طرف سے مخالفت کیے جانے کے درمیان سپریم کورٹ نے آج کہا کہ وہ اس پر غور کرے گا کہ کیا واقعی مسلم خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور کس حد تک اس میں مداخلت کی جا سکتی ہے۔

نئی دہلی : طلاق ثلاثہ کے مسئلے پر مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی کے مطالبے کی مسلم تنظيموں کی طرف سے مخالفت کیے جانے کے درمیان سپریم کورٹ نے آج کہا کہ وہ اس پر غور کرے گا کہ کیا واقعی مسلم خواتین کے حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور کس حد تک اس میں مداخلت کی جا سکتی ہے۔

چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی صدارت والے بنچ نے کہاکہ ہم تمام فریقوں کو سنیں گے اور اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلم خواتین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، تو ہم اس پر غور کریں گے کہ آخر کس حد تک مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی جا سکتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ آئین کے بنیادی عناصر اور سابقہ فیصلوں کے تناظر میں طلاق ثلاثہ کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔عدالت عظمی طلاق ثلاثہ ، تعدد ازدواج اور آبائی جائیداد میں مسلم خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف دائر متعدد درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے۔

واضح ر ہے کہ طلاق ثلاثہ سے متعلق ایک دیگر کیس کی سماعت کے دوران گزشتہ سال اکتوبر میں ایک بنچ نے نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا تھاکہ "شادی اور جانشینی سے متعلق قانون مذہب کا حصہ نہیں ہے۔ قانون بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہونا چاہئے۔

کورٹ کا کہنا تھا کہ تعدد ازدواج اخلاقی اقدار کے خلاف ہے اور حکومت ستی کی رسم کی طرح ہی اس رواج پر بھی روک لگا سکتی ہے۔ معاملے کی آئندہ سماعت چھ ستمبر کو ہوگی۔

First published: Jun 29, 2016 06:10 PM IST