ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سپریم کورٹ کا مرکزی حکومت کو بیوہ کی شادی کی حوصلہ افزائی کرنے کا مشورہ

عدالت عظمی نے بیواؤں کے بااختیار بنانے کے لئے مرکزی حکومت کی کوششوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکز نے ان بیواؤں کو بااختیار بنانے، غذائی اجناس، صفائی اور بیوہ آشرم میں صفائی کے مسائل پر مناسب طریقے سے پہل نہیں کی ہے

  • UNI
  • Last Updated: Jul 18, 2017 11:56 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سپریم کورٹ کا مرکزی حکومت کو بیوہ کی شادی کی حوصلہ افزائی کرنے کا مشورہ
سپریم کورٹ

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو بیوہ شادی کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے کوشش کرنے کا آج مشورہ دیا۔ عدالت عظمی نے بیواؤں کے بااختیار بنانے کے لئے مرکزی حکومت کی کوششوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکز نے ان بیواؤں کو بااختیار بنانے، غذائی اجناس، صفائی اور بیوہ آشرم میں صفائی کے مسائل پر مناسب طریقے سے پہل نہیں کی ہے۔

جسٹس مدن بی لوكر اور جسٹس دیپک گپتا کی بنچ نے مرکزی حکومت کے پروگراموں پر غور کرنے کے بعد کہا کہ حکومت کا منصوبہ میں 16 سے 20 سال عمر کی بیواؤں کی شادی جیسے اہم پہلو پر غور نہیں کیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ حکومت کو بیوہ شادی کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے۔ بنچ نے کہا کہ وہ بیواؤں کی حالت سدھارنے کے مرکزی حکومت کے منصوبہ پر شک نہیں کر رہی ہے، لیکن یہ مناسب طریقے سے کیا جانا چاہئے۔

بنچ نے کہا کہ خواتین کے بااختیار بنانے کے لئے 2001 میں قومی پالیسی بنی تھی، لیکن 15 سال سے زائد گزر جانے کے بعد بھی خواتین کوبااختیار نہیں بنایا جا سکا ہے۔ کورٹ نے سالیسٹر جنرل رنجیت کمار کی دلیلیں سننے کے بعد کہا کہ مرکزی حکومت کو اس قومی پالیسی میں ترمیم کرنی چاہئے، ساتھ ہی بیواؤں کو غذا فراہم کرنے کا بندوبست کرنا چاہئے۔

First published: Jul 18, 2017 11:56 PM IST