ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

14 سال کی لڑکی بنی ماں، ریپ کے ملزم 84  سال کے بزرگ کا ہوگا ڈی این اے ٹیسٹ، سپریم کورٹ نے دیا حکم

سپریم کورٹ (Supreme Court) نے سنیچر کو ایک اہم سماعت کے دروان نابالغ کے ریپ (Rape) کے ملزم 84 سال کے بزرگ کا ڈی این اے ٹیسٹ (DNA Test) کرانے کا حکم دیا ہے۔

  • Share this:
14 سال کی لڑکی بنی ماں، ریپ کے ملزم 84  سال کے بزرگ کا ہوگا ڈی این اے ٹیسٹ، سپریم کورٹ نے دیا حکم
علامتی تصویر

نئی دہلی: سپریم کورٹ (Supreme Court) نے سنیچر کو ایک اہم سنوائی کے دروان نابالغ کے ریپ (Rape) کے ملزم 84 سال کے بزرگ کا ڈی این اے ٹیسٹ (DNA Test) کرانے کا حکم دیا ہے۔سپریم کورٹ نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ بچے کے والد کا پتہ لگانے کیلئے بچے اور ملزم دونوں کا ڈی این اے ٹیست کرایا جانا ضروری ہے۔

بتادیں کہ سپریم کورٹ (Supreme Court) میں پہنچا یہ معاملہ مغربی بنگال کے مٹیگرا علاقے کا ہے۔ یہ واقعہ سال 2012 کا ہے۔ اس پورے معاملے کا ملزم 84 سال کا بزرگ ہے جس پر 14 سال کی لڑکی کا ریپ کا الزام ہے۔ ریپ کے بعد لڑکی نے ایک بچے کو جنم دیا جس کے والد کو لیکر اب معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔

ملزم کے وکیل کپل سبل نے اپنے موکل کے بچاؤ میں دلیل دی ہے کہ بزرگ کی صحت اور عمر ایسی نہیں ہے کہ وہ کسی لڑکی کے ساتھ ریپ کرسکے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے بزرگ کے وکیل کی دلیل کو خارج کرتے ہوئے بزرگ اور بچے کے ڈی این ٹیسٹ (DNA Test) کرائے جانے کا احکام جاری کردئے ہیں۔

بتادیں کہ اس معاملے میں بزرگ نے پہلے کولکاتہ ہائی کورٹ میں ضمانت کی عرضی لگائی تھی لیکن وہاں سے ان کی ضمانت کو خارج کردیا گیا تھا۔ اس کے بعد یہ معاملہ اب سہریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔


بتادیں کہ جس وقت یہ واقعہ ہواتھا اس وقت بزرگ کی عمر 76 سال کی تھی۔ جسٹس اشوک بھوشن نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے بزرگ کا ڈی این اے ٹیسٹ (DNA Test) کے احکام جاری کئے ہیں۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jul 19, 2020 09:32 AM IST