ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سپریم کورٹ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اے ایم یو تشدد سے وابستہ عرضی خارج کی ، کہا : ہائی کورٹ جائیں

سپریم کورٹ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں مظاہرہ کرنے والے طلبہ کے ساتھ پولیس کی زیادتی کے معاملہ میں براہ راست مداخلت کرنے سے انکار کردیا ۔

  • Share this:
سپریم کورٹ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور اے ایم یو تشدد سے وابستہ عرضی خارج کی ، کہا : ہائی کورٹ جائیں
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر مظاہرہ کا ایک منظر ۔ تصویر : پی ٹی آئی / نیوز 18 ڈاٹ کام ۔

سپریم کورٹ نے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں مظاہرہ کرنے والے طلبہ کے ساتھ پولیس کی زیادتی کے معاملہ میں براہ راست مداخلت کرنے سے انکار کرتے ہوئے درخواست گزاروں کو متعلقہ ہائی کورٹوں میں جانے کی منگل کو ہدایت دی ۔ چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے ، جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس سوريہ كانت کی بنچ نے تمام درخواست گزاروں اور مرکزی حکومت کی دلیلیں سننے کے بعد براہ راست کوئی تفتیشی کمیٹی قائم کرنے سے انکار کر دیا اور تمام درخواست گزاروں کو متعلقہ ہائی کورٹوں کے سامنے جانے کیلئے کہا ۔

بنچ نے کہا کہ متعلقہ ہائی کورٹ درخواست گزاروں اور مرکز اور متعلقہ ریاستی حکومتوں کا موقف سننے کے بعد فیصلہ کرے گا کہ اس معاملہ میں سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی قیادت میں تحقیقات کمیٹی قائم کی جائے یا نہیں ؟

ساتھ ہی ساتھ سی جے آئی نے دو معاملات پر تشویش کا اظہار کیا ۔ پہلا یہ کہ وائس چانسلر کو جانکاری دئے بغیر طلبہ کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ اوردوسرا یہ کہ جو بچے زخمی ہوئے ہیں ، انہیں کیا طبی امداد ملی ؟ ، جس پر تشار مہتا نے کہا کہ 67 لوگ زخمی ہوئے ، جس میں 31 پولیس اہلکار شامل ہیں ۔

سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ عدالتی پروسیس پر عمل کیا جانا چاہئے ۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ ایک کمیٹی مختلف ریاستوں کے معاملات کو دیکھے ، یہ ممکن نہیں ہے ۔ یہ الگ الگ ریاستوں سے وابستہ معاملات ہیں ۔ عرضی گزاروں کو متعلقہ ریاستوں کی ہائی کورٹوں سے رجوع کرنا چاہئے ۔


جامعہ تشدد معاملہ میں 10 افراد گرفتار

ادھر دہلی پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے آس پاس کے علاقوں میں ہونے والی آتشزنی اور پتھراؤ سمیت تشدد کے واقعات کے سلسلہ میں 10 افراد کو گرفتار کیا ہے ۔ پولیس کے مطابق گرفتارشدگان میں کوئی بھی جامعہ ملیہ یونیورسٹی وابستہ یا طالب علم نہیں ہے ۔ پولیس نے بتایا کہ پیر کی رات میں گرفتار تمام لوگ مجرمانہ پس منظر کے ہیں ۔ ادھر مرکزی وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق جامعہ میں ہونے والے مظاہرے کے دوران پولیس نے گولی نہیں چلائی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ جامعہ کے پاس سي اےاے کے خلاف تحریک کے دوران اتوار کو مظاہرین پر تشدد ہو گئے تھے ۔ مظاہرین پر کچھ بسوں میں آگ لگانے کے الزام بھی لگائے ہیں ۔ پرتشدد لوگوں نے ڈی ٹی سی کی چار بسوں ، 10 پولیس گشتی موٹرسائیکلوں اور تقریباً 100 پرائیویٹ گاڑیوں کو نقصان پہنچایا ۔ پولیس نے اس سلسلہ میں دو ایف آئی آر درج کی ہے۔ تشدد اور پتھراؤ کی وجہ سے ضلع کے کچھ اعلیٰ افسران سمیت 30 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے ۔ پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج میں 200 سے زائد افراد زخمی ہیں ، جن میں بیشتر جامعہ کے طالب علم بھی شامل ہیں۔

نیوز ایجنسی یو این آئی کے ان پٹ کے ساتھ ۔
First published: Dec 17, 2019 02:41 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading