ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اپہار آتشزدگی سانحہ: متاثرین کی كيوریٹو عرضی خارج، انسل برادران نہیں جائیں گے جیل

تین جون، 1997 کو فلم ’بارڈر‘ کی نمائش کے دوران جنوبی دہلی میں واقع اپہار سینما میں خوفناک آگ لگ گئی تھی۔ اس آگ میں 59 لوگوں نے اپنی جان گنوا دی تھی اور 100 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 20, 2020 02:46 PM IST
  • Share this:
اپہار آتشزدگی سانحہ: متاثرین کی كيوریٹو عرضی خارج، انسل برادران نہیں جائیں گے جیل
علامتی تصویر

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے اپہار سینما آتشزدگی سانحہ میں لاپروائی کے مجرم اور ملک کےجانے مانے بلڈر انسل برادران کو بڑی راحت دیتے ہوئے آتشزدگی متاثرین کی ایسوسی ایشن کی كيوریٹو عرضی خارج کردی ہے۔ اب سشیل انسل اور گوپال انسل کو جیل نہیں جانا پڑے گا۔ چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے، جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس سوريہ كانت کی بنچ نے متاثرین کی جانب سے داخل كيوریٹو درخواستوں کو مسترد کر دیا۔ ساتھ ہی کھلی عدالت میں پیشی کا متاثرین کا مطالبہ بھی مسترد کر دیا۔


سپریم کورٹ: فائل فوٹو


بنچ نے ’اِن چیمبر‘ سماعت کرتے ہوئے كيوریٹو عرضیاں مسترد کردیں۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا ہے کہ كيوریٹو درخواست میں کوئی بنیاد نہیں بتایا گیا ہے۔ کورٹ نے سشیل انسل اور گوپال انسل پر 60 کروڑ روپے جرمانہ ادا کرنے کو کہا تھا۔ جرمانے کی رقم ادا کرنے کے بعد دونوں بھائی جیل نہیں جائیں گے۔ سشیل انسل پانچ ماہ 20 دن اور گوپال انسل چار ماہ 22 دن کی جیل کی سزا کاٹ چکے ہیں۔ کورٹ کے اس فیصلہ پر اپہار آتشزدگی متاثرین کی طرف سے گہری مایوسی ظاہر کی گئی ہے۔


کورٹ نے کہا تھا کہ اب 30-30 کروڑ جرمانہ ادا کرنے پر ان کی جیل کی سزا اب تک کاٹی جا چکی جیل کی مدت تک کافی مان لی جائے گی۔ تاہم عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر مقررہ وقت میں انسل برادران جرمانے کی یہ رقم ادا نہ کرتے تو انہیں سنائی گئی ایک ایک سال کی قید کی سزا برقرار رہے گی۔ قابل غور ہے کہ تین جون، 1997 کو فلم ’بارڈر‘ کی نمائش کے دوران جنوبی دہلی میں واقع اپہار سینما میں خوفناک آگ لگ گئی تھی۔ اس آگ میں 59 لوگوں نے اپنی جان گنوا دی تھی اور 100 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے۔
First published: Feb 20, 2020 02:45 PM IST