உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مسلم فوجی انصاری آفتاب احمد کو جھٹکا ، سپریم کورٹ نے کہا : ہندوستانی فضائیہ کے عملے نہیں بڑھا سکتے داڑھی

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    ڈیوٹی پر رہتے ہوئے داڑھی بڑھانے کی وجہ سے انصاری آفتاب احمد کو انڈین ایئر فورس سے نکال دیا گیا تھا۔ اس کے بعد آفتاب احمد نے پہلے کرناٹک ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی تھی اور پھر اس کے بعد سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا

    • Agencies
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : سپریم کورٹ نے داڑھی بڑھانے کے سلسلہ میں ہندوستانی فضائیہ سے ہٹائے گئے مسلم فوجی انصاری آفتاب احمد کی اپیل کو مسترد کردیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ فضائیہ کے عملے جب تک وہ سروس میں ہیں، داڑھی نہیں بڑھا سکتے۔قابل ذکر ہے کہ ڈیوٹی پر رہتے ہوئے داڑھی بڑھانے کی وجہ سے انصاری آفتاب احمد کو انڈین ایئر فورس سے نکال دیا گیا تھا۔ اس کے بعد آفتاب احمد نے پہلے کرناٹک ہائی کورٹ میں اپیل داخل کی تھی اور پھر اس کے بعد سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ علاوہ ازیں ہندوستانی فضائیہ کے ایک اور اہلکار محمد زبیر نے بھی داڑھی کے سلسلہ میں ایک الگ عرضی داخل کی تھی۔
      اب سپریم کورٹ میں بھی آفتاب احمد کو مایوسی ہاتھ لگی ہے ۔ عدالت نے احمد کی اپیل یہ کہتے ہوئے خارج کر دی ہے کی ائیر فورس میں ملازمت میں رہتے ہوئے کوئی بھی نوجوان داڑھی نہیں رکھ سکتا۔
      غور طلب ہے کہ یہ پورا معاملہ سال 2001 کا ہے۔ اس وقت آفتاب احمد نے اپنے کمانڈنگ افسر یعنی سی او سے داڑھی بڑھانے کی اجازت مانگی تھی۔ آفتاب احمد نے دعوی کیا تھا کہ ان کو اس کا حق حاصل ہے۔ شروع میں تو ان کو اجازت دے دی گئی، لیکن بعد میں ایئر فورس کے حکام نے یہ کہتے ہوئے انہیں دی گئی اجازت واپس لے لی کہ قوانین کے مطابق صرف سکھ فوجیوں کو ہی داڑھی بڑھانے کی اجازت ہے۔
      اس کے بعد آفتاب احمد نے اس کے خلاف کرناٹک ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی، مگر ان کو یہاں مایوسی ہاتھ لگی ، جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ، جہاں سے بھی انہیں ایک مرتبہ پھر نامراد لوٹنا پڑا ہے۔
      اس دوران جب آفتاب احمد نے داڑھی نہیں کٹوائی ، تو ان کا تبادلہ پونے کے کمانڈاسپتال میں کر دیا گیا۔ وہاں بھی ایئر فورس حکام نے آفتاب کو داڑھی کٹوانے کیلئے کہا، لیکن انہوں نے صاف طور پر انکار کردیا ۔ اس کے بعد احمد کو وجہ بتاو نوٹس جاری کیا گیا اور پھر انہیں سروس سے ہٹا دیا گیا۔
      First published: