உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: شادی شدہ خواتین کی طرح غیر شادی شدہ کو بھی اسقاط حمل کا حق ہے

    دراصل ایک خاتون نے میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی ایکٹ، 2003 کے رول 3B کو چیلنج کیا تھا، جو 20 سے 24 ہفتوں کے درمیان حمل کو ختم کرنے کی صرف مخصوص قسم کی خواتین کو اجازت دیتا ہے۔

    دراصل ایک خاتون نے میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی ایکٹ، 2003 کے رول 3B کو چیلنج کیا تھا، جو 20 سے 24 ہفتوں کے درمیان حمل کو ختم کرنے کی صرف مخصوص قسم کی خواتین کو اجازت دیتا ہے۔

    دراصل ایک خاتون نے میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی ایکٹ، 2003 کے رول 3B کو چیلنج کیا تھا، جو 20 سے 24 ہفتوں کے درمیان حمل کو ختم کرنے کی صرف مخصوص قسم کی خواتین کو اجازت دیتا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آج خواتین کے حق میں بڑا فیصلہ سنایا۔ اسقاط حمل کے معاملے میں، سپریم کورٹ نے جمعرات کو کہا کہ تمام خواتین، چاہے وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ، ہندوستان میں محفوظ اور قانونی اسقاط حمل کی حقدار ہیں۔ سپریم کورٹ نے میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے کہا کہ شادی شدہ عورت کی طرح غیر شادی شدہ عورت کو بھی اسقاط حمل کا حق ہے۔ دراصل، سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ ایم ٹی پی ایکٹ اور اس سے متعلق قوانین میں تبدیلیوں کو لے کر دیا ہے۔

      جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے کہا کہ غیر شادی شدہ عورت کو ناپسندیدہ حمل کا شکار ہونے کی اجازت دینا میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی (ایم ٹی پی) ایکٹ کے مقصد اور روح کے خلاف ہوگا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ 2021 کی ترمیم کے بعد میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی ایکٹ کی دفعہ 3 میں شوہر کے بجائے پارٹنر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ ایکٹ میں غیر شادی شدہ خواتین کا احاطہ کرنے کے قانون سازی کے ارادے کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ایمس کے ڈائریکٹر سے کہا کہ وہ ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیں جو یہ دیکھے کہ اسقاط حمل سے خاتون کی زندگی کو کوئی خطرہ تو نہیں ہے۔

      دراصل ایک خاتون نے میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی ایکٹ، 2003 کے رول 3B کو چیلنج کیا تھا، جو 20 سے 24 ہفتوں کے درمیان حمل کو ختم کرنے کی صرف مخصوص قسم کی خواتین کو اجازت دیتا ہے۔ بنچ نے کہا کہ درخواست گزار کو محض اس بنیاد پر فوائد سے انکار نہیں کیا جانا چاہئے کہ وہ ایک غیر شادی شدہ خاتون ہے۔ عدالت نے کہا کہ پہلی نظر سے ایسا لگتا ہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے غیر معقول پابندی والا طریقہ اپنایا ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: