உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سپریم کورٹ نے پلٹا بامبے ہائی کورٹ کا فیصلہ، کہا۔ جلد سے جلد کو چھوئے بغیر بھی نافذ ہو گا پوکسو ایکٹ

    Youtube Video

    سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جنسی ہراسانی کی نیت سے کپڑے کے اوپر سے بچے کے حساس حصوں کو چھونا جنسی زیادتی نہیں ہے۔ اگر ایسا کہا جائے گا تو بچوں کو جنسی استحصال سے بچانے کے لیے بنائے گئے POCSO ایکٹ کی سنگینی ختم ہو جائے گی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: سپریم کورٹ (Supreme Court) نے جمعرات کو بامبے ہائی کورٹ (Bombay High Court) کے اس فیصلے کو پلٹ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ جنسی ہراسانی (Sexaul Assault) کے لیے جلد سے جلد کو چھونا (Skin To Skin Touch) ضروری ہے۔ جمعرات کو سپریم کورٹ نے بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو پلٹتے ہوئے کہا کہ پوکسو ایکٹ میں اسکن ٹو اسکن ٹچ ضروری نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جنسی ہراسانی کی نیت سے کپڑے کے اوپر سے بچے کے حساس حصوں کو چھونا جنسی زیادتی نہیں ہے۔ اگر ایسا کہا جائے گا تو بچوں کو جنسی استحصال سے بچانے کے لیے بنائے گئے POCSO ایکٹ کی سنگینی ختم ہو جائے گی۔

      سپریم کورٹ نےبامبے ہائی کورٹ (Bombay High Court) کے فیصلے کو رد کرتے ہوئے ملزم کو تین سال قید کی سزا سنائی۔ بامبے ہائی کورٹ کی ناگپور بنچ نے جنسی ہراسانی کے ایک ملزم کو یہ کہتے ہوئے بری کر دیا تھا کہ اگر ملزم اور متاثرہ کے درمیان جلد سے جلد کا کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہے، تو POCSO ایکٹ کے تحت جنسی زیادتی کا کوئی جرم نہیں بنتا ہے۔

      اس سے پہلے عدالت عظمیٰ نے فیصلوں پر روک لگاتے ہوئے مہاراشٹر حکومت کو نوٹس بھی جاری کیا تھا اور اٹارنی جنرل کو فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی اجازت دی تھی۔ سپریم کورٹ نے 30 ستمبر کو کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: