ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بابری مسجد انہدام کیس کیلئے سپریم کورٹ نے طے کی فیصلہ کی تاریخ ، اوما بھارتی اور اڈوانی ہیں ملزم

سی بی آئی کی خصوصی عدالت کو بابری مسجد انہدام معاملے میں فوجداری مقدمہ کونمٹانے کے لئے 31 اگست 2020 تک کرنے کی ہدایت دی ۔ بینچ نے کہا کہ نچلی عدالت اس بات کو یقینی بنائے کہ 31 اگست کی نئی تاریخ آگے نہ بڑھے۔

  • UNI
  • Last Updated: May 08, 2020 08:59 PM IST
  • Share this:
بابری مسجد انہدام کیس کیلئے سپریم کورٹ نے طے کی فیصلہ کی تاریخ ، اوما بھارتی اور اڈوانی ہیں ملزم
سپریم کورٹ نے کہا- ریزرویشن کا حق بنیادی حق نہیں

سپریم کورٹ نے بابری مسجد انہدام سے متعلق نچلی عدالت میں جاری فوج داری مقدمے کے نمٹانے کی مدت میں اس سال 31 اگست تک توسیع کردی ہے۔ جسٹس آر ایف نریمن اور جسٹس سوريہ کانت کی بنچ نے جمعہ کو جاری ایک حکم کے تحت لکھنؤ واقع مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی خصوصی عدالت کو بابری مسجد انہدام معاملے میں فوجداری مقدمہ کونمٹانے کے لئے 31 اگست 2020 تک کرنے کی ہدایت دی ۔ بینچ نے کہا کہ نچلی عدالت اس بات کو یقینی بنائے کہ 31 اگست کی نئی تاریخ آگے نہ بڑھے۔


سی بی آئی کے خصوصی جج ایس کے یادو نے گزشتہ چھ مئی کو خط لکھ کر مدت کار میں توسیع کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ابھی تک اس کیس میں گواہی پوری نہیں ہوئی ہے۔ مسٹر یادو گزشتہ سال 30 ستمبر کو ریٹائر ہونے والے تھے، لیکن عدالت عظمیٰ نے اپنے انتظامی حقوق کا استعمال کرتے ہوئے ان کی مدت کار میں توسیع کردی تھی اور چھ ماہ کے اندر اندر گواہی پوری کرنے اور نو ماہ کے اندر فیصلہ سنانے کی ہدایت دی تھی۔


قابل ذکر ہے کہ عدالت نے 19 اپریل 2017 کو لال کرشن اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی کے علاوہ جن ملزمین کے خلاف اس معاملہ میں سازش کا الزام لگایا تھا ، ان میں ونے کٹیار اور سادھوی شتمبرا بھی شامل تھیں ۔ ان کے علاوہ کیس کے تین دیگر اور بھی ملزمین تھے ، جن کی پہلے ہی موت ہوچکی ہے ۔

First published: May 08, 2020 08:59 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading