ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شرجیل امام نے ایک ہی ایجنسی سے جانچ کی مانگ کی، سپریم کورٹ نے دہلی پولیس سے مانگا جواب

جج اشوک بھوشن اور جج سنجیو کھنہ پر مشتمل بنچ نے شرجیل کی طرف سے پیش سینئر وکیل سدھارتھ دوے کے دلائل سننے کے بعد دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا اور معاملہ کی سماعت دس دن بعد کرنے کا فیصلہ کیا۔

  • UNI
  • Last Updated: May 01, 2020 04:00 PM IST
  • Share this:
شرجیل امام نے ایک ہی ایجنسی سے جانچ کی مانگ کی، سپریم کورٹ نے دہلی پولیس سے مانگا جواب
شرجیل امام نے ایک ہی ایجنسی سے جانچ کی مانگ کی، سپریم کورٹ نے دہلی پولیس سے مانگا جواب

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ نے اشتعال انگیز تقریر معاملے میں غداری اور دیگر سنگین الزامات کا سامنا کر رہے شرجیل امام کی عرضی پر دہلی پولیس سے جمعہ کو جواب طلب کیا۔ شرجیل نے ملک کے مختلف حصوں میں ایک ہی طرح کی پانچ ایف آئی آر درج کئے جانے کے خلاف اور تمام معاملات کی جانچ ایک ہی ایجنسی سے کرائے جانے کی عدالت سے درخواست کی ہے۔


جج اشوک بھوشن اور جج سنجیو کھنہ پر مشتمل بنچ نے شرجیل کی طرف سے پیش سینئر وکیل سدھارتھ دوے کے دلائل سننے کے بعد دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا اور معاملہ کی سماعت دس دن بعد کرنے کا فیصلہ کیا۔ سماعت کے دوران دوے نے دلیل دی کہ ان کے موکل کے خلاف مختلف ریاستوں میں درج تمام پانچ ایف آئی آر ان کی ہی تقریر پر مبنی ہیں۔ دوے نے ایسے ہی ایک طرح کے کئی معاملات درج کئے جانے کے خلاف ری پبلک ٹی وی کے ایڈیٹر ان چیف ارنب گوسوامی کو عدالت عظمی سے ملی راحت کا ذکر بھی کیا لیکن جج بھوشن نے کہا کہ اگر پولیس کو کچھ سنگین جرم کے بارے میں پتہ چلتا ہے تو ایف آئی آر درج کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے۔



خیال رہے کہ دہلی کے شاہین باغ میں شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے منتظمین میں سے ایک شرجیل پر غداری کے الزام لگے ہیں جن میں تعزیرات ہند کی دفعہ 124اور 153اے کے علاوہ انسداد غیرقانونی سرگرمیاں ایکٹ (یو اے پی اے) کی دفعہ 13 بھی جوڑی گئی ہے۔ شرجیل فی الحال جیل میں بند ہے۔

گزشتہ برس 13 اور 15دسمبر کو جامعہ تشدد میں مبینہ طور پر شامل ہونے کے لئے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالب علم شرجیل امام کے خلاف مختلف ریاستوں میں پانچ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ اس پر دسمبر میں اشتعال انگیزی کی وجہ سے جامعہ میں تشدد بھڑکانے اور پندرہ جنوری کو سی اے اے کے خلاف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تقریر کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
First published: May 01, 2020 04:00 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading