உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سشما نے تنزانیہ کی طالبہ کے معاملے پر کرناٹک کے وزیر اعلی سے رپورٹ طلب کی

    نئی دہلی۔ مودی حکومت نے کرناٹک میں تنزانیہ کی ایک طالبہ کے ساتھ ہوئی زیادتی کے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ریاستی حکومت سے رپورٹ طلب کی ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں تعلیم حا صل کرنے والے افریقی طالب علموں کو یقین دلایا ہے کہ ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے جائیں گے۔

    نئی دہلی۔ مودی حکومت نے کرناٹک میں تنزانیہ کی ایک طالبہ کے ساتھ ہوئی زیادتی کے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ریاستی حکومت سے رپورٹ طلب کی ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں تعلیم حا صل کرنے والے افریقی طالب علموں کو یقین دلایا ہے کہ ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے جائیں گے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔  مودی حکومت نے کرناٹک میں تنزانیہ کی ایک طالبہ کے ساتھ ہوئی زیادتی کے معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ریاستی حکومت سے رپورٹ طلب کی ہے اور ملک کے مختلف حصوں میں تعلیم حا صل کرنے والے افریقی طالب علموں کو یقین دلایا ہے کہ ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے جائیں گے۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے  یہاں خارجہ سکریٹری ایس جے شنکر، وزارت خارجہ میں سیکرٹری (اقتصادی امور) امر سنہا اور تنزانیہ کے ہائی کمشنر کے ساتھ یہاں وزارت خارجہ میں ایک میٹنگ میں پوری صورت حال کا جائزہ لیا اور وزیر اعلی سدارميا سے ٹیلی فون پر بات کرکے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور ریاستی حکومت کی طرف سے ایک رپورٹ دینے کو کہا ہے۔ وزارت داخلہ نے بھی کرناٹک حکومت سے رپورٹ دینے کوکہا ہے۔


      وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے یہاں معمول کی پریس بریفنگ میں بتایا کہ محترمہ سوراج نے تنزانیہ کے ہائی کمشنر سمیت ایک اعلی سطحی وفد کوبنگلور بھیجنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس وفد میں وزارت خارجہ میں جوائنٹ سکریٹری (اسٹیٹس)، ڈائریکٹر (مشرقی اور جنوبی افریقہ) اور ڈائریکٹر، ہندوستانی ثقافتی تعلقات کونسل شامل ہوں گے۔
      انہوں نے بتایا کہ بنگلور کے پولیس کمشنر نے ایک رپورٹ بھی بھیجی ہے جس میں واقعہ کی سلسلہ وار معلومات دی گئی ہے۔ وزارت خارجہ نے پولیس کمشنر کو ایسے قدم اٹھانے کو کہا ہے جس سے مستقبل میں ایسے واقعات پیش نہ آئیں۔


      ترجمان نے بتایا کہ حکومت کا مقصد واقعہ کی باريكیوں اور وجوہات کی جانچ کرنا نہیں ہے بلکہ وہ بنگلور سمیت ملک کے مختلف حصوں میں پڑھنے والے غیر ملکی طلباء کو پیغام دینا چاہتی ہے کہ حکومت ان کی حفاظت اور بہبود کے تئیں پرعزم ہے۔ بنگلور میں تقریبا 12 ہزار غیر ملکی طالب علم پڑھتے ہیں جن میں پانچ ہزار طالب علم افریقی ممالک کے شہری ہیں۔

      First published: