ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اے ایم یو انتظامیہ نے دو کشمیری طالب علموں کی معطلی کو کیا منسوخ، طلبہ نے کیا خیرمقدم

یونیورسیٹی کے اس فیصلہ پر طلباء یونین کے سابق نائب صدر سجاد سبحان راتھر نے اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اب انھیں ضلع انتظامیہ سے بھی اُمید ہے کہ وہ اس معاملہ میں سنجیدگی سے غور کرے گی

  • Share this:
اے ایم یو انتظامیہ نے دو کشمیری طالب علموں کی معطلی کو کیا منسوخ، طلبہ نے کیا خیرمقدم
علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی سے دو کشمیری طلبہ کی معطلی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے طلبہ: فائل فوٹو:فوٹو: نیوز ۱۸ اردو

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پڑھنے والے کشمیری طلباء کی معطلی کو منسوخ کرنے کے یونیورسیٹی انتظامیہ کے فیصلہ کا کشمیری طلباء نے خیرمقدم کیا ہے اور گھر واپسی کے اپنے اعلان کو فی الحال ملتوی کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اے ایم یو انتظامیہ نے ہمارے جائز مطالبہ کوپورا کر دیا ہے۔ اب ضلع انتظامیہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ اے ایم یو انتظامیہ کے فیصلہ کی روشنی میں وہ بھی طلباءسے ملک مخالف سرگرمیوں کا مقدمہ واپس لے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضلع انتظامیہ ایسا نہیں کرتی ہے تو وہ دوبارہ سے کشمیر واپس جانے کا اعلان کریں گے۔ کل طلبہ نے زبردست خاموش احتجاج درج کرایا تھا جس کے بعد ہی معطلی کو منسوخ کیا گیا۔


مبینہ کشمیری دہشت گرد منان وانی کی سیکورٹی فورسیز کے ساتھ تصادم میں ہوئی موت کے بعد اے ایم یو کیمپس میں پیدا ہوا تنازعہ اس وقت شدت اختیار کرگیا تھا جب دو کشمیری طلباءپر ملک مخالف مقدمہ قائم ہوا اورپھر نتیجتاً یونیورسٹی میں پڑھنے والے کشمیری طلباء نے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ڈگریاں واپس کرکے کشمیر لوٹنے کا اعلان کردیا تھا۔


کشمیری طلباء کے اس اعلان سے یونیورسٹی سمیت سیاسی حلقوں میں بھی چہ می گوئیاں ہونے لگی تھیں۔ یونیورسٹی کی جانب سے بنائی گئی سہ رکنی ٹیم نے کل مذکورہ طلباء کو بے قصور تصور کیا اوران کی معطلی کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا۔


یہ بھی پڑھیں: منان بشیر وانی کے والد بولے ۔ " افضل کی پھانسی کے بعد بھٹک گیا تھا بیٹا


            یونیورسیٹی کے اس فیصلہ پر طلباء یونین کے سابق نائب صدر سجاد سبحان راتھر نے اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اب انھیں ضلع انتظامیہ سے بھی اُمید ہے کہ وہ اس معاملہ میں سنجیدگی سے غور کرے گی۔ انھوں نے ضلع انتظامیہ کو ایک دن کی مہلت دی ہے۔




تصویر: نیوز 18 اردو
تصویر: نیوز 18 اردو

            وہیں، کشمیری طلباء اسے اپنی کامیابی تصورکر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اے ایم یو ہمارا اپنا ادارہ ہے۔ یہاں سے کوئی جانا نہیں چاہتا تھا لیکن حالات ایسے بنا دئیے گئے جس کے سبب یہ سخت فیصلہ لینا پڑ رہا تھا۔ اب انھیں بھی اُمید ہے کہ ضلع انتظامیہ ان کے مطالبہ کو مانے گی۔


محمد کامران کی رپورٹ

First published: Oct 17, 2018 11:25 AM IST