உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نریندر مودی کی بیٹی ہوں اور اتنی ہی ضدی ہوں، راج گھاٹ پر سواتی مالیوال کا حملہ

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    نئی دہلی: جب تک زانیوں کو 6 ماہ میں پھانسی کی سزا کا قانون نہیں بنے گا، مین اس جگہ سے نہیں اٹھوں گی۔ پھر چاہے اس کے لئے مجھے کوئی بھی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: جب تک زانیوں کو 6 ماہ  میں پھانسی کی سزا کا قانون نہیں بنے گا، مین اس جگہ سے نہیں اٹھوں گی۔ پھر چاہے اس کے لئے مجھے کوئی بھی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔ میں جانتی ہوں کہ وزیراعظم نریندر مودی ضدی ہیں، لیکن میں بھی ان کی ہی بیٹی ہوں، اور اتنی ہی ضدی بھی ہوں۔ مطالبات پورے ہونے سے قبل کسی بھی قیمت پر نہیں اٹھوں گی۔ یہ کہنا ہے کہ دہلی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن سواتی مالیوال کا۔ سواتی گذشتہ 7دنوں سے راج گھاٹ کے سامنے سمتا استھل پر بھوک ہڑتال پر بیٹھی ہیں۔

      جمعرات کی دوپہر بھوک ہڑتال پر آئے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے سواتی مالیوال نے کہاکہ وزیراعظم اس وقت ملک میں ہونے کے بجائے لندن میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ ملک میں خواتین تڑپ رہی ہیں، لندن میں بیٹھ کر عصمت دری پر بولتے ہوئے وزیراعظم کہتے ہیں کہ ریپ پر سیاست نہیں ہونی چاہئے، لیکن میں پوچھتی ہوں کہ آخر عصمت دری پر سیاست کون کررہا ہے؟

      آج پورے ملک میں ایک عجیب سا ماحول ہے۔ ہر کوئی ناراض ہے، لیکن ہمارے وزیراعظم ملک کے "من کی بات" پر کوئی ایکشن نہیں لیتے ہیں۔  جب ایکشن کی بات ہوتی ہے تو اس وقت ان کی کوئی تقریر آجاتی ہے یا پھر کوئی بیان دے دیتے ہیں۔ مودی جی ملک آپ سے ایکشن کی امید کررہا ہے۔

      وزیر داخلہ راجنا تھ سنگھ کے بارے میں سواتی مالیوال نے کہاکہ ایک بار 6 ماہ کی بچی کی عصمت دری ہوئی تھی۔ خون میں سنی بچی ایمس میں داخل تھی، میں وزیر داخلہ سے ملنے گئی گئی اور ان سے گہار لگائی کہ آپ ایک بار اس بچی سے ملے تو یقیناً آپ بھی کارروائی کرنے کے لئے مجبور ہوجائیں گے۔ لیکن وزیر داخلہ  نے میری فریاد پر غور نہیں کیا۔

      انہوں نے کہاکہ اگر یہ درد غصے میں تبدیل ہوجائے تو سب کچھ برباد کر دے گا اور اگر یہ جدوجہد بن جائے تو براہمن بھی جھکنے پر مجبور ہوجائے گا۔ اسی لئے آج میں جدوجہد کررہی ہوں۔ انہوں نےسبھی سیاسی جماعتوں اور تنظیمون سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ آپ کے گھر میں بھی بیٹی ہوگی، اس لئے آئیے اور اس لڑائی کو آگے لے کر جائیے۔

       
      First published: