உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طلاق اور یکساں سول کوڈ کے معاملہ پر مسلمانوں کو صحیح حکمت عملی اپنانے کی ضرورت : احمد بخاری

    شاہی امام مولاناسیداحمدبخاری کے نزدیک تین طلاق اور یکساں سول کوڈ کے سلسلے میں حکومت کا موقف اور لاکمیشن کا سوالنامہ ملک کی وحدت وسالمیت اور قومی ہم آہنگی سے ہم آہنگ نہیں۔

    شاہی امام مولاناسیداحمدبخاری کے نزدیک تین طلاق اور یکساں سول کوڈ کے سلسلے میں حکومت کا موقف اور لاکمیشن کا سوالنامہ ملک کی وحدت وسالمیت اور قومی ہم آہنگی سے ہم آہنگ نہیں۔

    شاہی امام مولاناسیداحمدبخاری کے نزدیک تین طلاق اور یکساں سول کوڈ کے سلسلے میں حکومت کا موقف اور لاکمیشن کا سوالنامہ ملک کی وحدت وسالمیت اور قومی ہم آہنگی سے ہم آہنگ نہیں۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : شاہی امام مولاناسیداحمدبخاری کے نزدیک تین طلاق اور یکساں سول کوڈ کے سلسلے میں حکومت کا موقف اور لاکمیشن کا سوالنامہ ملک کی وحدت وسالمیت اور قومی ہم آہنگی سے ہم آہنگ نہیں۔ مولانا بخاری کہاکہ یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا تعلق ملک کے 125کروڑ لوگوں سے ہے ۔یہ صرف مسلمانوں کا نہیں تمام مذاہب کے لوگوں کا معاملہ ہے ۔اسی کے ساتھ یہ الزام لگاتے ہوئے کہ اترپردیش اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ووٹوں کی صف بندی کی غرض سے حکومت اس طرح کا جال پھینک رہی ہے انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کوانتہائی سوچ سمجھ کا مظاہرہ کرنا چاہئے تاکہ وہ جھانسے میں نہ آئیں۔
      امام بخاری نے کہا کہ اگرچہ آزادی کے بعد سے رونما ہونے والے ہزاروں فرقہ وارانہ فسادات ، مسلمانوں کی اقتصادی ،سماجی اورتعلیمی پسماندگی اور زبوں حالی کیلئے کسی ایک کو ذمہ دارقرارنہیں دیاجاسکتالیکن مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ظلم اورزیادتیوں کے سلسلے میں نام نہاد سیکولرجماعتیں،فرقہ پرست عناصر اورحکومتیں ایک دوسرے کو مات دینے کی کوشش میں لگی رہی ہیں ۔
      مولانابخاری نے اس اظہار تشویش کے ساتھ کہ ملک میں ایک بارپھر منافرت کاماحول بنانے کی کوشش جاری ہے جوملک کی سلامتی کیلئے نہایت خطرناک ہیالزام لگا یا کہ ’’مسلمان مسلسل ظلم اور سازش کاشکارہیں ہماری مذہبی آزادی کو چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ آئین نے ہم کو اس ملک میں مکمل مذہبی آزادی کاحق دیا ہے‘‘۔
      انہوں نے کہا کہ بہت چالاکی کے ساتھ اس وقت جب کہ اترپردیش کے الیکشن قریب ہیں ۔طلاق اوریونیفارم سول کوڈ کامسئلہ اٹھایا گیاہے۔طلاق کامسئلہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے ۔ علماء نے طلاق کی شرعی نوعیت کو قانونی ماہرین کے ذریعے دلائل کے ساتھ سپریم کورٹ میں رکھاہے۔ سرکارکے حلف نامہ سے جو اس نے سپریم کورٹ میں داخل کیاہے اس کی نیت کا پتہ چلتاہے۔ہمیں یہ لڑائی عدالت میں پوری قوت سے لڑنی چاہئے۔
      مولانابخاری نے کہا کہ ہندوستان جیسے کثیر مذاہب والے ملک میں یکساں سول کوڈ کا نفاذ مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ایک سو پچیس کڑوڑ آبادی والے ملک میں حکومت کو پہلے سوکروڑ والے لوگوں کی رائے لینے پڑے گی جومختلف رسم ورواج ،تہذیبی روایات اور مذہب پرعمل کرتے ہیں۔ ہندوستان میں دوسوسے زائد پرسنل لاز ہیں۔ان کو بدلنا اور ان میں یکسانیت پیداکرنے کا تصوربھی نہیں کیاجاسکتا۔کچھ لوگ ملک میں نفرت کا ماحول بنانے کی کوشش کررہے ہیں جو ملک کی سالمیت کیلئے نہایت خطرناک ہے۔ہمیں ایسی طاقتوں کو کامیاب نہیں ہونے دینا۔
      First published: