உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ملک کی ترقی کے لئے ہر فرد کے ساتھ انصاف ضروری: سید احمد بخاری

    دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری : فائل فوٹو۔

    دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری : فائل فوٹو۔

    نئی دہلی۔ شاہی امام مولاناسید احمد بخاری نے ہندوستان کو ترقی کی راہ پر لے جانے کی پرزور وکالت کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت کو انصاف سے محروم کرکے اور انہیں زندگی کے ہرشعبہ میں الگ تھلگ کرنے کی سازش ہوتی رہے گی،ملک کسی بھی صورت میں ترقی نہیں کرسکتا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔ شاہی امام مولانا سید احمد بخاری نے ہندوستان کو ترقی کی راہ پر لے جانے کی پرزور وکالت کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ملک کی دوسری سب سے بڑی اکثریت کو انصاف سے محروم کرکے اور انہیں زندگی کے ہرشعبہ میں الگ تھلگ کرنے کی سازش ہوتی رہے گی،ملک کسی بھی صورت میں ترقی نہیں کرسکتا۔ آج یہاں نماز جمعہ سے قبل 45 منٹ کے اپنے خطاب میں مولانا بخاری نے الزام لگایاکہ آزادی کے بعد سے ہی مسلمانوں کو خوف کی نفسیات میں مبتلا کرنے کی سازشیں کی جاتی رہی ہیں۔ کبھی فسادات میں مسلمانوں کے جان ومال کوتباہ کیاگیا ، انہیں قدم قدم پرانصاف سے محروم رکھا گیا اور مسلم دشمن عناصر نے مسلمانوں کوہمیشہ یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ یہ ملک ان کا نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے نام پر بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں کاسلسلہ کوئی نیا نہیں ہے۔ کانگریس کے دورحکومت میں بھی نہ صرف بے قصور مسلم نوجوانوں کو اندھا دھند گرفتارکیاگیا بلکہ بٹلہ ہاؤ س فرضی مڈبھیڑ جیسے متعدد واقعات کانگریس کے دورحکومت میں بھی ملک کے چپہ چپہ میں ہوتے رہے۔


      مولانا بخاری نے الزام لگایا کہ ہرمحاذ پر اپنی ناکامیوں کوچھپانے کیلئے سرکاروں کے پاس ایک ہی حربہ ہے کہ دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں کے خلاف کوئی نیا شوشہ چھوڑا جائے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ دہلی میں دو روز قبل دہشت گردی کے الزام میں جن مسلم نوجوانوں کو گرفتارکیاگیا ہے ، ان کے پاس سے ہتھیار یا کوئی بم بنانے والا سامان برآمد نہیں ہوا بلکہ ان کے پاس سے مجاہد کی للکار،مسلمانوں کا قتل عام،تاریخ ہند،جہاد فی سبیل اللہ،آپ کا مستقبل جیسی کتابیں برآمد ہوئی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا کتابیں لکھنا، چھاپنا، پڑھنا او اپنے پاس رکھنا کوئی جرم ہے؟ کیا ان کتابوں میں یہ لکھا ہے کہ بے گناہوں کومارنے کیلئے سلسلہ وار بم دھماکے کئے جائیں؟ کیا ان کتابوں میں یہ درج ہے کہ دہشت گردی پھیلا کر ملک میں افراتفری پیداکی جائے؟مولانابخاری نے کہاکہ دہشت گردی صرف بم دھماکوں سے نہیں ہوتی بلکہ زبانی دہشت گردی اس سے زیادہ خطرناک ہے ۔ 


      انہوں نے کہاکہ’’ کوئی کہتا ہے گردن کاٹ دیں گے، کوئی کہتا ہے پاکستان چلے جاؤ، کوئی لوجہاد کے نام پر لڑکیوں کواغواکرنے کی بات کرتا ہے، کوئی گھرواپسی کے نام پر مسلمانوں کو مذہب چھوڑنے کی دھمکی دیتا ہے‘‘انہوں نے الزام لگایا کہ مسلم دشمن، فرقہ پرست ،شرپسند عناصر مسلمانوں کویہ احساس دلاناچاہتے ہیں کہ یہ ملک ان کا نہیں ہے۔ مولانا بخاری نے متنبہ کیا کہ فرقہ پرست عناصر یہ اچھی طرح سمجھ لیں کہ ہندوستان میں مسلمان برابر کے حصہ دار ہیں۔ ملک کی آزادی میں ہماری قربانیاں دوسروں سے کہیں زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم کسی کی دھمکیوں میں آنے والے نہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ زبانی دہشت گردی پھیلانے والوں کے خلاف تفتیشی ایجنسیوں کو اسی طرح تیزی سے حرکت میں آناچاہئے جس طرح وہ مسلم نوجوانوں کے خلاف حرکت میں آتی ہیں۔ مولانابخاری نے متنبہ کیا کہ انصاف سے محرومی انارکی پیدا کرتی ہے اور انارکی ملک کے اتحاد ، امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے خطرناک ہے۔

      First published: