உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تین طلاق سے متعلق الہٰ آباد ہائی کورٹ کے اظہار خیال پر اشتعال غیر ضروری : پروفیسر طاہر محمود

    قومی اقلیتی کمیشن کے سابق چیرمین اور لاء کمیشن آف انڈیا کے سابق رکن پروفیسر طاہر محمود نے کہا ہے کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ایک جج نے اپنے ایک آرڈر میں طلاق ثلاثہ سے متعلق جواظہار خیال کیا ہے اس پر مشتعل ہونے کی کوئی ضرورت نہیں

    قومی اقلیتی کمیشن کے سابق چیرمین اور لاء کمیشن آف انڈیا کے سابق رکن پروفیسر طاہر محمود نے کہا ہے کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ایک جج نے اپنے ایک آرڈر میں طلاق ثلاثہ سے متعلق جواظہار خیال کیا ہے اس پر مشتعل ہونے کی کوئی ضرورت نہیں

    قومی اقلیتی کمیشن کے سابق چیرمین اور لاء کمیشن آف انڈیا کے سابق رکن پروفیسر طاہر محمود نے کہا ہے کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ایک جج نے اپنے ایک آرڈر میں طلاق ثلاثہ سے متعلق جواظہار خیال کیا ہے اس پر مشتعل ہونے کی کوئی ضرورت نہیں

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : قومی اقلیتی کمیشن کے سابق چیرمین اور لاء کمیشن آف انڈیا کے سابق رکن پروفیسر طاہر محمود نے کہا ہے کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ایک جج نے اپنے ایک آرڈر میں طلاق ثلاثہ سے متعلق جواظہار خیال کیا ہے اس پر مشتعل ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ معاملہ طلاق یا نکاح ثانی کے جواز سے متعلق تھا ہی نہیں اور نہ ہی جج موصوف نے ان پہلوؤں پر کوئی فیصلہ دیا ہے۔
      معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے پروفیسر محمود نے بتایا کہ ایک 53 سالہ شادی شدہ شخص نے جسکے دو بچے بھی ہیں خود سے 20 سال چھوٹی ایک لڑکی پر فدا ہوکر اس سے شادی کی اور جب لڑکی کے رشتہ داروں نے اس پر خفا ہوکر ان سے جھگڑا کیا تو تحفظ فراہم کئے جانے کی درخواست لے کر عدالت پہونچ گئے جس نے انکی درخواست مسترد کر دی۔ کیونکہ دوارن سماعت انھوں نے عدالت کو بتایا تھاکہ لڑکی کی شرط کے مطابق انھوں نے اپنی پہلی زوجہ کو طلاق دے دی ہے اس لئے جج نے اپنے آرڈر میں مسلم معاشرہ میں زبانی طلاق کے رواج پر اظہار خیال کیا جسکے الفاظ انھوں نے کیرالا ہائی کورٹ کے جسٹس وی خالد اور جسٹس کرشنا ایّرکے دو پرانے فیصلوں سے مستعار لئے ہیں اور مقدمہ شمیم آرا میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا ہے، اپنی طرف سے کوئی نئی بات نہیں کہی ہے۔
      جج نے آرڈر کے آخری جملے میں صاف لکھا ہے کہ طلاق اور دوسری شادی کے جواز پر ہم کوئی حکم صادر نہیں کر رہے ہیں ۔ انھیں بھی معلوم تھا ور ہم سب بھی جانتے ہیں کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے جس میں مسلمانوں کا موقف بخوبی پیش کیا جا چکا ہے اسلئے اسکے فیصلے کا انتظار کیا جانا چاہئیے۔
      First published: