ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

طلاق ثلاثہ کا اثر صرف ایک طلاق تک ہی محدود: پروفیسر طاہر محمود

نئی دہلی۔ لفظ طلاق کو تین بار دوہرا کر شادی کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دینا طلاق سے متعلق قرآنی احکام کا حصہ نہیں بلکہ ان کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Apr 27, 2016 06:12 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
طلاق ثلاثہ کا اثر صرف ایک طلاق تک ہی محدود: پروفیسر طاہر محمود
نئی دہلی۔ لفظ طلاق کو تین بار دوہرا کر شادی کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دینا طلاق سے متعلق قرآنی احکام کا حصہ نہیں بلکہ ان کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

نئی دہلی۔  لفظ طلاق کو تین بار دوہرا کر شادی کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دینا طلاق سے متعلق قرآنی احکام کا حصہ نہیں بلکہ ان کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ اس استدلال کے ساتھ ملک کے ممتاز ماہر قانون پروفیسر طاہر محمود نےدہلی ہائی کورٹ کے 2008 کے ایک مقدمے کے اس حتمی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہ ’’ ہمارے یہاں طلاق ثلاثہ کا اثر صرف ایک طلاق کا ہی ہوگا‘‘ آج کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت سائرہ بانو کے مقدمے میں اگر یہی فیصلہ سامنے آتا ہے تو وہ قرآنی احکام کے خلاف بالکل نہیں ہوگا اور اس کی حیثیت پورے ملک کے لئے لازمی قانون کی ہوگی۔


انہوں نے کہا کہ قرآنی آیات کے مطابق طلاق پوری ازدواجی زندگی میں الگ الگ موقعوں پر صرف دو بار اور اس کی فقہی تشریح کے مطابق تین بار دی جا سکتی ہے اورطلاق ثلاثہ کا جواز نہ قرآن کی آیات سے نکلتا ہے نہ اس کی فقہی تشریح سے۔


پروفیسر محمود نے مزید بتا یا کہ گذشتہ 50 برسوں میں ایک کے بعد ایک مسلم ملکوں نے قانون بنا دیا ہے کہ ایسی ہر طلاق ایک ہی مانی جائے گی اور عدت کے خاتمے تک اس کو واپس لیا جا سکتا ہے۔


muslim women2


واضح رہے کہ دہلی ہائی کورٹ نے 2008 میں طلاق کے ایک مقدمے میں حتمی فیصلہ یہ سنایا تھا کہ’’ ہمارے یہاں طلاق ثلاثہ کا اثر صرف ایک طلاق کا ہی ہوگا‘‘۔

First published: Apr 27, 2016 06:12 PM IST