உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Dalit Boy Beaten to Death: استادنےدلت لڑکےکوپیٹا، لڑکےکی ہوئی موت! وجہ جان کر آپ ہوں گےحیران!

    لڑکے کو بری طرح سے مارا پیٹا گیا۔

    لڑکے کو بری طرح سے مارا پیٹا گیا۔

    راجستھان کے ضلع جلور کے سورانا گاؤں (Surana village) میں نجی اسکول کے ایک طالب علم کو اس کے استاد نے 20 جولائی کو مارا پیٹا اور 13 اگست کو احمد آباد کے ایک اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ چل بسا۔

    • Share this:
      بچوں کے حقوق کی اعلیٰ تنظیم قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال (National Commission for Protection of Child Rights) نے راجستھان حکومت سے ایک نو سالہ دلت لڑکے (Dalit Boy) کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کرنے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ راجستھان کے ضلع جلور کے سورانا گاؤں (Surana village) میں ایک نجی اسکول کے ایک طالب علم کو اس کے استاد نے 20 جولائی کو مارا پیٹا اور 13 اگست کو احمد آباد کے ایک اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ چل بسا۔

      پولیس نے 40 سال کے استاد چل سنگھ (Chail Singh) کو گرفتار کر لیا ہے اور اس پر قتل اور درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (NCPCR) نے ضلع مجسٹریٹ کو لکھے ایک خط میں کہا کہ معاملہ سنگین ہے اور ایف آئی آر کی کاپیاں ملزم کے خلاف انتظامیہ کی طرف سے کی گئی کارروائی اور پولیس کی طرف سے کی گئی کارروائی کی نقل مانگی گئی ہے۔ سات دن کے اندر انتظامیہ اس کو فراہم کرسکتی ہے۔

      ریاستی محکمہ تعلیم نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہے اور راجستھان ایس سی کمیشن کے چیئرمین کھلاڑی لال بیروا نے حکم دیا ہے کہ اسے کیس آفیسر کی اسکیم کے تحت تیزی سے تحقیقات کے لیے لیا جائے۔ جالور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ہرش وردھن اگروالا نے کہا کہ لڑکے کو بری طرح سے مارا پیٹا گیا۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      انہوں نے مزید کہا کہ اس کے پینے کے پانی کے برتن کو چھونے کی وجہ کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ جب کہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس دلت لڑکے کا قتل پانی کے برتن کو چھونے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: