ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

آسام میں بی جے پی کے نظریے یا پالیسی کی نہیں اس کی حکمت عملی کی جیت: طارق انور

نئی دہلی۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سینئر لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ طارق انور نے کہا ہے کہ پانچ ریاستوں کے حالیہ اسمبلی انتخابات اور خاص طور پر آسام میں بھارتیہ جنتا پارٹیکے نظریات یا اس کی پالیسی کی جیت نہیں ہوئی ہے بلکہ یہ اس کی بہترین انتخابی حکمت عملی کی جیت ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: May 23, 2016 04:08 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
آسام میں بی جے پی کے نظریے یا پالیسی کی نہیں اس کی حکمت عملی کی جیت: طارق انور
طارق انور: فائل فوٹو

نئی دہلی۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سینئر لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ طارق انور نے کہا ہے کہ پانچ ریاستوں کے حالیہ اسمبلی انتخابات اور خاص طور پر آسام میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے نظریات یا اس کی پالیسی کی جیت نہیں ہوئی ہے بلکہ یہ اس کی بہترین انتخابی حکمت عملی کی جیت ہے۔ مسٹر طارق انور نے کہا کہ اگر پانچوں ریاستوں میں بی جے پی کی جیت ہوتی تو اسے مرکزی حکومت کی پالیسیوں ، اس کی دو برس کی کارکردگی اور پارٹی کے نظریات کی جیت ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ آسام میں بی جے پی نے جس انتخابی حکمت عملی کے ذریعے وہاں کی مقامی پارٹیوں آسام گن پریشد اور بوڈولینڈ پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا، وہی اس کی کامیابی کا واحد سبب تھا۔ انہوں نے کہا کہ آسام میں کانگریس نے مقامی پارٹیوں سے اتحاد نہ کرکے سیاسی غلطی کی جس کا اسے خمیازہ بھگتنا پڑا۔ اگر کانگریس  بدرالدین اجمل کے زیر قیادت اے آئی یو ڈی ایف اور آسام گن پریشد کے ساتھ اتحاد کرتی تو وہ ریاست میں پھر سے اقتدار میں آجاتی۔


مسٹر طارق انور نے کہا کہ بی جے پی اور اس کے صدر امت شاہ اب یہ ماحول بنانے کی کوشش کررہے ہیں کہ پورا ملک ان کی حمایت میں کھڑا ہے اور وہ کانگریس سے پاک ملک بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن سچائی اس سے کوسوں دور ہے کیونکہ پانچ ریاستی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو مجموعی طور پر صرف 64 سیٹیں ملی ہیں جبکہ کانگریس نے پانچوں ریاستوں میں کل 115 سیٹیں حاصل کی ہیں جبکہ بی جے پی اور کانگریس کے علاوہ دیگر علاقائی پارٹیوں کو 465 سیٹیں ملی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے ماضی میں بھی کئی بار کانگریس کی حالت خراب ہوئی تھی لیکن ہر بار عوام کانگریس کو پھر سے اپنی حمایت دے کر اسے اقتدار میں لے آئی۔ موجودہ صورتحال میں یہ ہرگز نہیں کہا جاسکتا کہ کانگریس ختم ہوچکی ہے۔


بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا منصوبہ کانگریس مکت (کانگریس سے پاک) ہندوستان بنانا نہیں بلکہ اپوزیشن سے پاک ہندوستان بنانا ہے۔ اس لئے اس کے ان عزائم کو روکنے کے لئے سیکولر پارٹیوں کا متحد ہونا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ عدم رواداری کے سلسلے میں انہوں نے کہا کہ ملک میں عدم رواداری میں اضافہ ہوا ہے، جو ملک کے مستقبل کے لئے خطرناک ہے۔ کیونکہ جب تک ملک میں امن اور خیرسگالی کا ماحول نہیں ہوگا بیرونی ممالک سے سرمایہ کاری نہیں آئے گی جس سے ملک کی ترقی متاثر ہوگی۔

First published: May 23, 2016 04:08 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading