ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بدنام زمانہ مصنفہ تسلیمہ نسرین کا متنازع بیان ، مسلم بنیاد پرستی پر ہونی چاہئے بات

نئی دہلی : بنگلہ دیش کی بدنام زمانہ مصنفہ تسلیمہ نسرین کا کہنا ہے کہ ہندستان ایک روادار ملک ہے، جہاں کچھ غیر روادار لوگ رہتے ہیں۔ تسلیمہ کے مطابق اب وقت آ گیا ہے جب ہندو كٹرواد کے ساتھ ہی مسلم بنیاد پرستی پر بھی توجہ مرکوز کی جانی چاہئے۔

  • IANS
  • Last Updated: Jan 10, 2016 06:25 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بدنام زمانہ مصنفہ تسلیمہ نسرین کا متنازع بیان ، مسلم بنیاد پرستی پر ہونی چاہئے بات
نئی دہلی : بنگلہ دیش کی بدنام زمانہ مصنفہ تسلیمہ نسرین کا کہنا ہے کہ ہندستان ایک روادار ملک ہے، جہاں کچھ غیر روادار لوگ رہتے ہیں۔ تسلیمہ کے مطابق اب وقت آ گیا ہے جب ہندو كٹرواد کے ساتھ ہی مسلم بنیاد پرستی پر بھی توجہ مرکوز کی جانی چاہئے۔

نئی دہلی : بنگلہ دیش کی بدنام زمانہ مصنفہ تسلیمہ نسرین کا کہنا ہے کہ ہندستان ایک روادار ملک ہے، جہاں کچھ غیر روادار لوگ رہتے ہیں۔ تسلیمہ کے مطابق اب وقت آ گیا ہے جب ہندو كٹرواد کے ساتھ ہی مسلم بنیاد پرستی پر بھی توجہ مرکوز کی جانی چاہئے۔


مغربی بنگال کے مالدہ میں حالیہ تشدد کا ذکر کرتے ہوئے تسلیمہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہندوستان ایک روادار ملک ہے۔ لیکن کچھ لوگ غیر روادار ہیں۔ ہر معاشرے میں کچھ لوگ غیر روادار ہوتے ہیں۔ تسلیمہ نے کہا کہ ہندو بنیاد پرستی پر بات ہوتی ہے، لیکن مسلم بنیاد پرستی پر بھی بات ہونی چاہیے۔


تسلیمہ نے کہا کہ اظہار رائے کی سو فیصد آزادی ہونی چاہئے، اگرچہ اس سے کچھ لوگوں کے جذبات ہی کیوں نہ مجروح ہوتے ہوں۔ اگر ہم اپنا منہ نہیں کھولیں گے ، تو سماج ترقی نہیں کرے گا۔ ہمیں معاشرے کو بہتر بنانے کے لئے عورتوں سے نفرت کرنے والوں ، مذہبی شدت پسندوں اور معاشرے کی تمام بری طاقتوں کی مخالفت کرنی ہوگی ۔ متنازع مصنفہ نے ہفتے کی شام دہلی ہاٹ میں منعقدہ ایک پروگرام میں یہ بات کہی۔


دوسری طرف مصنف اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے مفکر سدھیندر کلکرنی نے کہا کہ مکمل آزادی کا استعمال ذمہ داری کے ساتھ ہی کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کوئی آزادی نہیں ہوتی ، جو کسی مذہب کو نیچا دکھائے، یہ جانتے ہوئے کہ اس سے جذبات مجروح ہوں گے اور دوسروں کی توہین ہوگی۔ میں اس بات سے مکمل طور متفق ہوں کہ مصنف کے پاس غیر مشروط مکمل آزادی ہونی چاہئے۔ مگر آزادی کا استعمال ذمہ داری کے ساتھ کیا جانا چاہئے۔


کلکرنی نے کہا کہ ہندستان 'حقیقت میں روادار ملک ہے اور اس معاملے میں بحث پر سیاست نہیں کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں عدم برداشت کے واقعات کو نہ تو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا چاہئے اور نہ ہی کم کرکے بتانا چاہئے۔ ہمیں اس بحث پر سیاست نہیں کرنی چاہئے، ایسا نہیں دکھایا جانا چاہئے کہ یہ سیاسی جماعتوں کے درمیان کی بات ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ عدم برداشت کا آغاز مئی 2014 سے ہی (جب نریندر مودی حکومت اقتدار میں آئی تھی) ہوا ہے۔

First published: Jan 10, 2016 06:25 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading