ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ٹیکسی ڈرائیوروں کے احتجاج سے دہلی کی سرحد پر کئی گھنٹے تک لگا رہا جام

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ کے ذریعے ڈیزل کی ٹیکسیوں پر پابندی لگائے جانے کےفیصلے کے خلاف احتجاج میں آج ٹیکسی آپریٹروں نے دہلی سے گڑگاؤں اور نوئیڈا جانے والے راستوں پر بڑے پیمانے پر احتجاج و مظاہرہ کیا، جس سے ان مقامات پر کئی گھنٹے تک جام لگارہا۔

  • UNI
  • Last Updated: May 02, 2016 03:24 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ٹیکسی ڈرائیوروں کے احتجاج سے دہلی کی سرحد پر کئی گھنٹے تک لگا رہا جام
نئی دہلی۔ سپریم کورٹ کے ذریعے ڈیزل کی ٹیکسیوں پر پابندی لگائے جانے کےفیصلے کے خلاف احتجاج میں آج ٹیکسی آپریٹروں نے دہلی سے گڑگاؤں اور نوئیڈا جانے والے راستوں پر بڑے پیمانے پر احتجاج و مظاہرہ کیا، جس سے ان مقامات پر کئی گھنٹے تک جام لگارہا۔

نئی دہلی۔ سپریم کورٹ کے ذریعے ڈیزل کی ٹیکسیوں پر پابندی لگائے جانے کےفیصلے کے خلاف احتجاج میں آج ٹیکسی آپریٹروں نے دہلی سے گڑگاؤں اور نوئیڈا جانے والے راستوں پر بڑے پیمانے پر احتجاج و مظاہرہ کیا، جس سے ان مقامات پر کئی گھنٹے تک جام لگارہا۔

ڈیزل ٹیکسی ڈرائیور وں نے پہلے مٖغربی دہلی کے راجوکڑی میں ٹریفک نظام میں رخنہ ڈالا ، جس سے قومی شاہراہ نمبر آٹھ پر کئی گھنٹے تک ٹریفک نظام ٹھپ رہا۔


دھولا کنواں کے راستے گڑگاؤں جانے والے لوگوں کو آج خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹریفک پولیس افسروں نے بتایا کہ ٹیکسی ڈرائیور بڑی تعداد میں سڑکوں پر کھڑے ہوگئے جس سے ایک کلومیٹر تک رکی ہوئی موٹر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔


دہلی سے نوئیڈا جانے والے ڈی این ڈی ایکسپریس وے کا بھی یہی حال رہا جہاں ٹیکسی ڈرائیوروں نے احتجاج و مظاہرہ کرتے ہوئے سڑک جام کردیا، جس کی وجہ سے دفتر جانے والوں کو ٹریفک جام میں گھنٹوں کھڑا رہنا پڑا۔ ٹریفک نظام میں ٓانے والی اس روکاوٹ کو دور کرنے کے لئے ٹریفک پولیس نے سخت مشقت کے بعد مظاہرین کو منتشر کرکے ٹریفک نظام بحال کرایا۔


خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے ڈیزل سے چلنے والی ٹیکسیوں کو سی این جی میں تبدیل کرنے کے لئے سنیچر تک دی گئی مہلت کی میعاد میں کسی بھی حال میں توسیع نہ کئے جانے کا حکم اسی دن سنا دیا تھا اور اس کے ساتھ ہی یہ واضح کردیا تھا کہ یکم مئی سے قومی راجدھانی اور اس کے اطراف میں ڈیزل کی ٹیکسیاں نہیں چل سکیں گی۔ ڈیزل ٹیکسی آپریٹروں کا کہنا ہے کہ آلودگی ختم کرنے کے نام پر ان سے ان کی روزی روٹی چھینی جارہی ہے۔ اس سے بہت سے ٹیکسی والے بیروزگار ہوجائیں گے، اس سے حکومت کو اس پر توجہ دینی چاہئے اور بیچ کا کوئی راستہ نکالنا چاہئے۔

First published: May 02, 2016 02:50 PM IST