ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

الہ آباد: بچپن میں دونوں ہاتھوں سے معذور ہونے والے دلت ٹیچر کے حوصلے کی کہانی

شری نارائن کا کہنا ہے کہ دونوں ہاتھوں کی معذوری اب ان کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔شری نارائن نے شدید معاشی اور سماجی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے کئی اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں حاصل کی ہیں۔ ان کا شمار ضلع کے بہترین ٹیچروں میں ہوتا ہے۔

  • Share this:
الہ آباد: بچپن میں دونوں ہاتھوں سے معذور ہونے والے دلت ٹیچر کے حوصلے کی کہانی
الہ آباد: بچپن میں دونوں ہاتھوں سے معذور ہونے والے دلت ٹیچر کے حوصلے کی کہانی

الہ آباد۔ انسان کے اندر اگر جینے کا حوصلہ ہو تو اس کی جسمانی معذوری اس کی راہ میں کبھی رکاوٹ نہیں بن سکتی ۔ الہ آباد  میں ایک ایسے ہی ٹیچر ہیں جو اپنے دونوں ہاتھوں سے معذور تو ہیں لیکن انہوں نے غریب اور پسماندہ بچوں میں علم کی شمع روشن کرنا اپنی زندگی کا  مقصد بنا لیا ہے۔ ہاتھوں کی معذوری کے باوجود یہ نہ صرف اپنے سارے کام کاج خود سے کرتے ہیں بلکہ کلاس میں بڑی محنت کے ساتھ بچوں کو تعلیم  بھی دے رہے ہیں۔


یوں تو ایسے بہت سے ٹیچر ہیں جو اپنی جسمانی معذوری کے باوجود اپنے تعلیمی فرائض کو انجام دے رہے ہیں ۔ لیکن الہ آباد کے کانشی رام کالونی میں رہنے والے دلت ٹیچر شری نارائن اپنی مثال آپ بن چکے ہیں۔ شری نارائن کی کہانی کسی افسانے سے کم نہیں ہے ۔ شری نارائن پیدائشی طور سے معذور نہیں ہیں ۔ تیس برس پہلے بجلی کے ایک حادثے میں یہ اپنے دونوں ہاتھوں سے محروم ہو گئے تھے ۔ لیکن انہوں نے خود کو معذور رکھنا گوارا نہیں کیا بلکہ انہوں نے اپنے ہاتھوں کی معذوری کو اپنی  زندگی کی سب سے بڑی طاقت بنا لیا ۔ شری نارائن اس وقت الہ آباد کے پڑوسی ضلع پرتاپ گڑھ کے سر کاری پرائمری اسکول میں ٹیچر ہیں۔ یہ رو زانہ الہ آباد سے پرتاپ گڑھ کا سفر کرتے ہیں۔ دونوں ہاتھوں سے معذور ہونے کے باوجود شری نارائن اپنے  سارے کام  کاج خود سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہاں تک کہ اپنے بچوں کی دیکھ بھال اور تربیت کا ذمہ بھی انہوں نے خود سنبھال رکھا ہے۔


شری نارائن کا کہنا ہے کہ دونوں ہاتھوں کی معذوری اب ان کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔شری نارائن نے شدید معاشی اور سماجی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے کئی اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں حاصل کی ہیں۔ ان کا شمار  ضلع کے بہترین ٹیچروں میں ہوتا ہے۔ ان کو  حکومت اور مختلف تعلیمی تنظیموں کی طرف سے بہترین ٹیچر کے ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے ۔ تدریس میں لگن کے علاوہ شری نارائن  اپنے طور پر سماجی خدمات کو بھی سر انجام دیتے رہتے ہیں ۔ انہوں نے وصیت کی ہے کہ موت کے بعد ان کا جسم میڈیکل کالج کو عطیہ کر دیا جائے۔ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران اور ٹیچرس ساتھی بھی شری نارائن کے اس غیرمعمولی جذبے کو سلام کرتے ہیں۔


گورنمنٹ اسکول برائے معذورین کے پرنسپل پرپھل کمار گپتا شری نارائن کے حوصلے کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی میں شری نارائن جیسا حوصلہ مند اور پر اعتماد شخص نہیں دیکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ دوسرے کو احساس ہی نہیں ہونے دیتے کہ وہ معذور ہیں۔ اپنی شدید معذوری کے باوجود شری نارائن نے اعلیٰ تعلیمی اسناد حاصل کی ہیں۔ انہوں نے ماسٹر ڈگری کے علاوہ  بی ایڈ،  ایم ایڈ اور ایل ایل  بی کی ڈگریاں بھی حاصل کی ہیں۔ شری نارائن کا تعلق دلت طبقے سے ہے۔ یہ ٹیچر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سماجی کارکن اور دلت طبقے کے فرد ہونے کی حیثیت سے  سماجی مسائل کو بھی اٹھاتے رہتے ہیں۔ شری نارائن  نے تمام طرح کے چیلنجوں کو پار کرتے ہوئے تعلیم ، سماجی خدمات اور اعلیٰ اخلاق کے ذریعے معاشرے میں  اپنی منفرد شناخت قائم کی ہے۔ ایک ایسی شناخت جو ایک معمولی انسان کو بھی مثالی بنا دیتی ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 05, 2020 01:18 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading