ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اویسی کےگڑھ میں صرف بی جے پی-کانگریس ہی نہیں ٹی آرایس کا بھی نہیں چلا جادو، مجلس اتحادالمسلمین کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں

حیدرآباد اوررنگا ریڈی میں مجلس کے امیدواروں کے سامنے ٹی آرایس کوبھی لوگوں نے مسترد کردیا جبکہ پوری ریاست میں چندرشیکھرراو کی زبردست لہردیکھنے کوملی۔

  • Share this:
اویسی کےگڑھ میں صرف بی جے پی-کانگریس ہی نہیں ٹی آرایس کا بھی نہیں چلا جادو، مجلس اتحادالمسلمین کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں
اسدالدین اویسی اوراکبرالدین اویسی: فائل فوٹو

پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد حکومت سازی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ تین اہم ریاستوں راجستھان، مدھیہ پردیش اورچھتیس گڑھ میں کانگریس کی حکومت بننے جارہی ہے جبکہ تلنگانہ میں ٹی آرایس پرایک بارپھرلوگوں نے اعتماد ظاہر کیا ہے۔ میزورم کانگریس کے ہاتھ سے نکل گیا ہے اوریہاں علاقائی جماعت ایم این ایف کو اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ تلنگانہ کی اگرہم بات کریں توٹی آرایس کی آندھی بھی مجلس اتحاد المسلمین کا قلعہ منہدم نہیں کرسکی۔


اسدالدین اویسی کی قیادت والی مجلس اتحاد المسلمین سے 8 امیدواراپنی قسمت آزمارہے تھے جس میں 7 کوکامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ان ساتوں اسمبلی حلقوں کا اگرجائزہ لیا جائے تومجلس کے امیدوارکے سامنے بی جے پی، کانگریس ہی نہیں چندرشیکھرراو کی تلنگانہ راشٹریہ سمیتی اورٹی ڈی پی کو بھی لوگوں نے مستردکردیا ہے۔ اعدادوشمارپراگرنظرڈالیں تو یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ پوری ریاست میں ٹی آرایس کی لہردکھائی دی، لیکن مجلس کے گڑھ میں ٹی آرایس کومقبولیت نہیں مل سکی۔


حیدرآباد اوررنگا ریڈی اضلاع کی اگربات کریں تویہاں اویسی کی پارٹی کو سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہے۔ اویسی کے ساتوں امیدواروں کے مقابلے کسی بھی جماعت کو ووٹ نہیں ملا۔ کئی اسمبلی حلقوں میں توووٹنگ کا 50 فیصد ووٹ مجلس کے امیدوارکو ملا جبکہ 50 فیصد ووٹوں میں کانگریس، بی جے پی، ٹی آرایس اورآزادامیدواروں کو تقسیم کرنا پڑا۔ اعدادوشمارپرنظرڈالیں تو واضح طورپراندازہ ہوجاتا ہے۔ صرف راجندرنگراسمبلی سیٹ پراویسی کی پارٹی پرٹی آرایس بھاری پڑی ہے، لیکن مجلس نے سات سیٹوں پرٹی آرایس کو بری طرح شکست دی ہے۔


حیدرآباد کے عوام میں اویسی کی مقبولیت میں کمی نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ اترپردیش کے وزیراعلیٰ اورفائربرانڈ لیڈریوگی آدتیہ ناتھ بھی رہے۔ انہوں نے حیدرآباد میں اپنی تشہیری مہم کے دوران اویسی برادران پرجم کرتنقید کی تھی۔ یہی نہیں یوگی آدتیہ ناتھ نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد نظام کی طرح اویسی کو یہاں سے بھگا دیں گے ۔ ساتھ ہی انہوں نے حیدرآباد اورکریم نگرکے نام بھی تبدیل کرنے کا اعلان کردیا تھا۔ یوگی آدتیہ ناتھ کی تقریرسے بی جے پی کو بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا، کیونکہ وہاں بی جے پی پانچ سیٹوں سے گھٹ کرایک پرسمٹ گئی۔ تاہم اویسی کی مضبوطی میں کوئی کمی نہیں ہوئی، بلکہ وہ مزید مضبوط ہوگئی۔

تلنگانہ میں مجلس اتحاد المسلمین نے اپنے 8 امیدواراتارے تھے، جس میں 7 امیدواروں پرعوام نے دوبارہ بھروسہ ظاہر کیا ہے جبکہ راجندرنگرسیٹ پرعوام نے مجلس اتحاد المسلمین کے امیدوارپربھی اعتماد نہیں کیا۔ یہاں پرٹی آرایس امیدوارپرکاش گوڑنے بڑی جیت درج کی ہے، یہاں مجلس امیدواررحمت بیگ کوتیسرے نمبرپراکتفا کرنا پڑا۔ وہیں بی جے پی کی بات کریں توگھوش محل اسمبلی حلقہ سے ٹی راجا سنگھ نے ایک بارپھرکامیابی حاصل کی ہے۔ ٹی راجا نےٹی آرایس امیدوارپریم سنگھ راٹھورکو17734 ووٹوں سے شکست دی۔ ٹی راجا سنگھ کو 61854 ووٹ ملے جبکہ پریم سنگھ راٹھورکو44120 ووٹ ملے۔

مجلس اتحادالمسلمین کے 7 ممبران اسمبلی اکبرالدین اویسی، احمد بن عبداللہ، جعفرحسین، کوثرمحی الدین، سید احمد پاشا قادری، ممتازاحمدخان اورمعظم خان اپنی اپنی سیٹ بچانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ سید احمد پاشا قادری اورممتاز احمد خان کی سیٹیں اس بارتبدیل کردی گئی تھیں۔ دونوں امیدواروں کے اسمبلی حلقے میں تبدیلی کی گئی تھی، اس کے باوجود دونوں لیڈروں نے مقابلہ آرائی میں بڑی جیت حاصل کی ہے۔

 ساتوں سیٹوں کے اعدادوشمار

چندریان گٹا اسمبلی حلقہ:  فائربرانڈ لیڈراکبرالدین اویسی نے چندریان گٹا سیٹ سے ایک بارپھربڑی جیت حاصل کی ہے، وہ مسلسل پانچویں بارممبراسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ اکبرالدین اویسی کو95339 ووٹ حاصل ہوئے جبکہ ان کی حریف امیدوارشہزادی سید کو محض 15075 ووٹوں پراکتفا کرنا پڑا۔ شہزادی سید بی جے پی کی امیدوارتھیں۔ یہاں ٹی آرایس امیدوارکو 14224 ووٹ ملے جبکہ کانگریس امیدوارعیسی بن عبید مصری کو11309 ووٹ ملے۔ یہاں اکبرالدین اویسی نے بی جے پی امیدوارکو80264 ووٹوں سے شکست دی۔

مالا کپٹ اسمبلی حلقہ: مجلس اتحادالمسلمین کے احمد بن عبداللہ نے مالاکپٹ اسمبلی حلقے سے ٹی ڈی پی امیدوارمحمد مظفرعلی کو23512 ووٹوں سے شکست دی۔ احمد بن عبداللہ کو 53281 ووٹ حاصل ہوئے جبکہ حریف امیدوار کو29769 ووٹوں پراتفاق کرنا پڑا۔ یہاں بی جے پی تیسرے نمبرپررہی۔ بی جے پی امیدوارجتیندرا کو 20880 ووٹ حاصل ہوئے۔ اس سیٹ پرکانگریس کا امیدوارنہیں تھا کیونکہ اس کا ٹی ڈی پی سے اتحاد تھا۔

کاروان اسمبلی حلقہ: مجلس اتحاد المسلمین کے امیدوارکوثرمحی الدین نے کاروان اسمبلی حلقہ سے ایک بارپھرجیت حاصل کی۔ انہوں نے بی جے پی امیدوارامرسنگھ کو50 ہزارووٹوں سے شکست دی۔ کوثرمحی الدین کو 87586 ووٹ حاصل ہوئے جبکہ امرسنگھ کو 37417 ووٹ ہی ملے۔ یہاں ٹی آرایس امیدوارٹی جیون سنگھ کو 24699 ووٹ ملے۔ وہیں کانگریس امیدوارعثمان بن محمد الہاجری کو 11231 پرہی سمٹنا پڑا۔

نام پلی اسمبلی حلقہ:  مجلس امیدوارجعفرحسین نام پلی اسمبلی حلقہ سے قسمت آزمارہے تھے، انہوں نے کانگریس کے محمد فیروزخان کو شکست دی ہے۔ 57940 ووٹ ملے جبکہ محمد فیروزخان کو 48265 ووٹ حاصل ہوئے۔ یہاں ٹی آرایس امیدوارچودھری آنند کمار گوڑ کو17015 ووٹ ملے۔ چوتھے نمبرپررہنے والے بی جے پی کے امیدواردیوارا کرونکرکو11622 ووٹوں پراکتفا کرنا پڑا۔

چارمینار اسمبلی حلقہ:  مجلس امیدوارممتازاحمد خان  نے بی جے پی امیدوار ٹی اوما مہندرا کو 32586 ووٹوں سے شکست دی۔ ممتازاحمد خان کو 53808 ووٹ ملے جبکہ ٹی اوما راو کو 21222 ووٹ ملے۔ کانگریس امیدوارمحمد غوث کو 16899 ووٹ ملے۔ یہاں پرٹی آرایس امیدوارکوچوتھے نمبرپرپہنچا دیا۔ ٹی آرایس امیدوارمحمد صلاح الدین لودھی کومحض 6223 ووٹ ملے۔

یاکوت پورہ اسمبلی حلقہ:  مجلس امیدوارسید احمد پاشا قادری نے ٹی آرایس امیدوارسما سندرریڈی کو بڑی شکست دی۔ یہاں مجلس بچاو تحریک کا امیدوارتیسرے نمبرپررہا جبکہ بی جے پی کوچوتھے مقام اورکانگریس کوپانچویں نمبرپردھکیل دیا۔ سید احمد پاشا قادری نے سندرریڈی کو 73978 ووٹوں سے شکست دی۔ انہیں 69595 ووٹ ملے جبکہ سما سندرریڈی کو22617 ووٹ ملے۔  مجلس بچاو تحریک کے امیدوارکو21222 ووٹ ملے جبکہ بی جے پی امیدوارچودھری روپ راج کو 16608 ووٹ حاصل ہوئے اورکانگریس امیدوارراجندرراجو کو6452 ووٹ ملے۔

بہادرپورہ اسمبلی حلقہ:  مجلس امیدوارمحمد معظم خان نے 96993 ووٹ حاصل کرکے شاندارجیت حاصل کی۔ انہوں نے ٹی آرایس کے اپنے حریف امیدوارمیرعنایت علی برقی کو بری طرح ہرایا۔ انہیں محض 14475 ووٹوں پراکتفاکرنا پڑا۔ یہاں بی جے پی امیدوارکو تیسرا اورکانگریس چوتھا مقام ملا۔ بی جے پی امیدوارحنیف علی کو7395 ووٹ ملے جبکہ کانگریس امیدوارشیخ محمد کلیم الدین کو 7174 ووٹ ملا۔
First published: Dec 12, 2018 10:54 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading