ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

پاکستان کی جانب سے مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کے پیش نظر سرحد پر کشیدگی میں اضافہ کا خدشہ

پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے مسلسل بڑھتے ہوئے واقعات اور اس کے جواب میں ہندوستان کی سخت کارروائی کے پیش نظر سرحد پر کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 23, 2016 01:01 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
پاکستان کی جانب سے مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کے پیش نظر سرحد پر کشیدگی میں اضافہ کا خدشہ
پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے مسلسل بڑھتے ہوئے واقعات اور اس کے جواب میں ہندوستان کی سخت کارروائی کے پیش نظر سرحد پر کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

نئی دہلی: پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے مسلسل بڑھتے ہوئے واقعات اور اس کے جواب میں ہندوستان کی سخت کارروائی کے پیش نظر سرحد پر کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ گزشتہ ماہ ہندوستانی فوج کی پاکستان کے مقبوضہ کشمیر میں گھس کر کی گئی کارروائی میں کچھ پاکستانی فوجیوں اور بڑی تعداد میں دہشت گردوں کے مارے جانے کے بعد سے سرحد پار سے دراندازی کی کوششیں تو تیز ہوئی ہی ہیں پاکستانی فوج بھی تقریباً ہر روز جنگ بندی کی خلاف ورزی کرکے بلا وجہ شدید فائرنگ کر رہی ہے۔ہندوستان کی جانب سے اس کا منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے۔ہندوستانی فوج کی جوابی کارروائی میں جمعہ کو پاکستان کے سات رینجر اور ایک دہشت گرد مارا گیا ہے اور کچھ زخمی ہوئے ہیں۔

اعلی سیاسی قیادت کی جانب سے فوج اور سرحدی محافظ دستے کو سرحد پار سے کسی بھی حرکت کو منہ توڑجواب دئے جانے کا اثر فوج کی کارروائی میں نظر آرہا ہے۔ چوکس ہندوستانی فوج نے دراندازی کی زیادہ تر کوششوں کو یا تو ناکام کر دیا ہے یا دہشت گردوں کو مار گرایا ہے۔ اس سے سرحد پار بیٹھے دہشت گردوں اور پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی اور فوج میں مایوسی ہے۔ اس مایوسی میں وہ ہندوستانی ٹھکانوں پر بلا وجہ بھاری فائرنگ کر رہی ہے۔

سرحد پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود دونوں ملک بھلے ہی جنگ کے دہانے پر نہیں پہنچے ہوں لیکن وہ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی تیاریوں میں بھی مصروف ہیں۔ انتظامیہ دستہ سرحدی دیہات سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر بھیج رہا ہے۔ گاؤں چھوڑ کر گئے لوگوں کے سامنے بحران پیدا ہو گیا ہے کیونکہ نہ تو وہ جانوروں کی دیکھ بھال کر پا رہے ہیں اور نہ ہی فصلوں کو کاٹ پا رہے ہیں۔ پنجاب کے سرحدی علاقوں میں خاص طور پر دھان کی فصل کٹنے کے لئے تیار ہے لیکن اس کشیدہ ماحول میں کسانوں کو کٹائی کے لئے مزدور نہیں مل رہے ہیں۔

اسی درمیان پاکستان نے کھسیاہٹ میں ہندوستانی ٹیلی ویژن چینلوں پر پابندی لگا دی ہے۔ہندوستان نے اسے بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی وہ پاکستانی چینلز کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کی جانب سے اعتماد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ لیکن فلم سٹی ممبئی میں پاکستانی فنکاروں کے خلاف بھی ماحول انتہائی کشیدہ ہے۔ بڑے فلم ساز اور ڈائریکٹر اشارہ دے رہے ہیں کہ وہ اپنی فلموں میں پاکستانی فنکاروں کو نہیں لیں گے۔

امریکہ نے دونوں ممالک سے بات چیت کی میز پر اختلافات اور متنازعہ مسائل کے حل کی بات کے ساتھ ہی پاکستان سے دہشت گردی کے خلاف سخت موقف اختیار کرنےکو کہا ہے۔ ایشیا کی ایک بڑی طاقت چین نے بھی شاید پہلی بار دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ کو دور کرنے میں ہر مدد دینے کی پیش کش کی ہے۔

اڑی دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان کے سخت موقف کا سب سے زیادہ اثر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے عمل پر بھی پڑا ہے اور یہ حالیہ برسوں کے سب سے نچلی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ پاکستان میں اگلے ماہ ہونے والا سارک چوٹی کانفرنس بھی اس کشیدہ ماحول کی زد میں آگیا ہے۔ہندوستان کی مخالفت کے بعد سارک کے 8 اراکین ممالک میں سے دیگر 5نے بھی اس کی حمایت کرتے ہوئے ماحول کو چوٹی کانفرنس کے پاکستان میں منعقد کئے جانے کے لئے منفی قرار دیا جس سے یہ کانفرنس منسوخ ہو گیا۔
First published: Oct 23, 2016 01:01 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading