ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

الہ آباد میں شہریت قانون مخالف تحریک اب این پی آر کی مخالفت پر مرکوز

شہریت قانون کے خلاف دو مہینے سے جاری روشن باغ کا احتجاجی مظاہرہ اب پوری طرح سے این پی آر کے خلاف مرکوز ہو گیا ہے۔

  • Share this:
الہ آباد میں شہریت قانون مخالف تحریک اب این پی آر کی مخالفت پر مرکوز
الہ آباد میں شہریت قانون مخالف تحریک اب این پی آر کی مخالفت پر مرکوز

 الہ آباد۔ جیسے جیسے ملک میں این پی آر کرانے کی تاریخ نزدیک آتی جا رہی ہے، این آر سی اور سی اے اے مخالف تحریک کا رخ بھی بدلتا دکھائی دینے لگا ہے۔ سی اے اے اور این آر سی کے خلاف اٹھنے والی ملک گیر تحریک اب این پی آر مخالف تحریک میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے ۔ تحریک کے بدلے ہوئے مزاج کا اثر الہ آباد کے روشن باغ احتجاجی دھرنے میں محسوس کیا جا سکتا ہے ۔


شہریت قانون کے خلاف دو مہینے سے جاری روشن باغ کا احتجاجی مظاہرہ اب پوری طرح سے این پی آر کے خلاف مرکوز ہو گیا ہے۔ احتجاجی دھرنے پر بیٹھی خواتین کا کہنا ہے کہ جس طرح این آر سی کے خلاف پورے ملک میں تحریک چلائی گئی ہے، اسی طرح این پی آر کے خلاف بھی متحدہ تحریک شروع کر دی گئی ہے۔ احتجاجی دھرنے کی منتظمین میں شامل سارہ احمد کا کہنا ہے کہ این پی آر در اصل این آر سی کی بدلی ہوئی شکل ہے۔ لہٰذا این آر سی کی طرح ہی این پی آر کو بھی تسلیم نہیں کیا جائے گا۔


شہریت قانون کے خلاف دو مہینے سے جاری روشن باغ کا احتجاجی مظاہرہ اب پوری طرح سے این پی آر کے خلاف مرکوز ہو گیا ہے۔


الہ آباد میں روشن باغ کے احتجاجی دھرنے کو دو مہینے پانچ دن پورے ہو گئے ہیں۔ شہریت قانون اور این آر سی کے خلاف شروع کیا گیا احتجاجی دھرنا اب پوری طرح این پی آر کی مخالفت پر مرکوز ہو گیا ہے ۔ دھرنے پر بیٹھیں خواتین نے اب  این آر سی کی طرح ہی این پی آر کے خلاف محاذ کھول دیا ہے ۔خواتین کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی حال میں این پی آر کے عمل میں حکومت کا تعاون نہیں کریں گی ۔خواتین کا کہنا ہے کہ حکومت پارلیمنٹ میں بیان دینے کے بجائے نیا نوٹیفکیشن جاری کرے تاکہ این پی آر کو لیکر عوام کے اندر جو خوف پیدا ہو گیا ہے اسے دور کیا جا سکے ۔خواتین کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ جب تک حکومت اپنے متنازعہ فیصلوں کو واپس نہیں لیتی ہے احتجاجی دھرنے کا سلسلہ یوں ہی جاری رہے گا۔ روشن باغ احتجاجی دھرنا اب این پی آر کے خلاف سراپا احتجاج بنا ہوا ہے۔خواتین  کا یہ بھی الزام ہے کہ این پی آر کی آڑ میں حکومت پورے ملک میں  این آر سی  نافذ کرنے کی تیاری کر رہی ہے ۔خواتین کا مشترکہ مطالبہ ہے کہ حکومت این پی آر میں شامل متنازعہ شرائط کو واپس لے اور سن 2010 میں ہونے والی مردم شماری کے ضابطوں کے مطابق ہی نئی مردم شماری کرائے۔
First published: Mar 17, 2020 08:48 PM IST