உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بی جے پی کے دور اقتدار میں ایک منصوبہ بند سازش و حکمتِ عملی کے تحت اقلیتی طبقے کے لوگوں کا استحصال: محمد سیف

     معروف صحافی اور سماجی کارکن عامر صابری اور ویڈیو جرنلسٹ محمد سیف کہتے ہیں کہ بی جے پی کے دور اقتدار میں ایک منصوبہ بند سازش اور حکمتِ عملی کے تحت اقلیتی طبقے کے لوگوں کا استحصال  ہر سطح پر کیا گیا ہے۔

    معروف صحافی اور سماجی کارکن عامر صابری اور ویڈیو جرنلسٹ محمد سیف کہتے ہیں کہ بی جے پی کے دور اقتدار میں ایک منصوبہ بند سازش اور حکمتِ عملی کے تحت اقلیتی طبقے کے لوگوں کا استحصال ہر سطح پر کیا گیا ہے۔

    معروف صحافی اور سماجی کارکن عامر صابری اور ویڈیو جرنلسٹ محمد سیف کہتے ہیں کہ بی جے پی کے دور اقتدار میں ایک منصوبہ بند سازش اور حکمتِ عملی کے تحت اقلیتی طبقے کے لوگوں کا استحصال ہر سطح پر کیا گیا ہے۔

    • Share this:
    لکھنئو: مسائل اور زندگی کا چولی دامن کا ساتھ ہے ،  کہا جاتا ہے کہ کسی بھی معاشرے کی خوشحالی کا اندازہ وہاں کی عوام کے جذبات ، خیالات  اور حالات سے ہی لگایا جاتا ہے۔ آج ریاست اتر پردیش بلکہ یوں کہا جائے کہ پورے ملک کی جو حالت ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں  بر سر اقتدار جماعت اور اس کی حلیف تنظیموں کی جانب سے ترقی اور وکاس کے کتنے ہی دعوے کیوں نہ کئے جائیں کتنے ہی نعرے کیوں نہ لگائے جائیں لیکن عوامی سطح پر جو رد عمل سامنے آرہا ہے وہ تمام دعووں وعدوں  اور حقائق کے مابین ایک فاصلہ ظاہر کرتا ہے اور اگر بات اقلیتی طبقے کے لوگوں کے رد عمل کی کریں تو منظر نامہ افسوس ناک اور تشویش ناک  حد تک خراب معلوم ہوتاہے۔ معروف صحافی اور سماجی کارکن عامر صابری اور ویڈیو جرنلسٹ محمد سیف کہتے ہیں کہ بی جے پی کے دور اقتدار میں ایک منصوبہ بند سازش اور حکمتِ عملی کے تحت اقلیتی طبقے کے لوگوں کا استحصال  ہر سطح پر کیا گیا ہے۔ یہ بات آئینے کی طرح صاف ہے کہ موجودہ اقتدار میں اقلیت نوازی کا تعلق صرف بیانات اور کاغذات کی حد تک محدود ہے عملی طور پر اقلیتی بہبود کے لئے نہ کچھ کیا گیا ہے اور نہ مستقبل میں کچھ کئے جانے کے امکانات نظر آرہےہیں۔

    مسلم پرسنل لا بورڈ آف انڈیا کے صدر قاری یوسف عزیزی کہتے ہیں کہ حکومت اتر پردیش کے حالیہ بجٹ نے اس منظر نامے کی تصدیق کردی ہے کہ موجودہ اقتدار میں اقلیتوں کے لئے زمینیں تنگ ہیں۔ معروف  سیاسی وسماجی لیڈر سابق وزیر  معید احمد کے مطابق موجودہ حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں سے لوگ پوری طرح واقف ہو گئے ہیں اور ہرانے دن یاد کرتے ہوئے ماضی جانب حسرت  سے دیکھ رہےہیں۔ غریب دلت مسلم اور سبھی ذاتوں کے پسماندہ لوگوں کو  ساتھ لے کر چلنے کی بات کرنے والی بی جے پی کہتی تو یہی ہے کہ یہ سب کو ساتھ لئے بغیر نہ ملک کی ترقی ممکن ہے اور نہ یکجہتی اور تحفظ  کا قیام ۔ صلاح الدین صدیقی کے مطابق آنے والا وقت اتر پردیش میں بابا کے بلڈوزر کے نام پر ایک مخصوص طبقے کے لوگوں کے لئے کچھ اور تباہی لا سکتا ہے۔

    مسلم مت داتا جاگروک سنگھ کے سکرٹری شعیب ایڈوکیٹ کے مطابق موجودہ عہد امن پسند اور جمہوریت میں یقین رکھنے والے شہریوں کے لئے تازیانہءِ عبرت ہے۔  نہ روزگار ہے نہ زندگی کی بنیادی سہولیات جب اتر پردیش کی راجدھانی میں ہی لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں تو دوسرے شہروں اور قصبوں کی تو بات ہی کیا۔ گزشتہ  کئی ماہ سے لکھنئو کی  بیشتر سڑکوں پر چلنا دشوار ہے دس منٹ کا راستہ گھنٹوں میں طے ہوتا ہے مہینوں سڑکیں کھدی پڑی رہتی ہیں لیکن تعمیر کے نام پر کیا جانے والا کام وبالِ جان بن گیا ہے۔ اگر بی جے کے لیڈر اور خاص طور سے وزیر اعلیٰ ایک بار لوگوں کی آمد و رفت روکے بغیر اپنے کارواں یہاں سے گزاریں تو احساس ہوگا کے عوام کس بے بسی اور محرومی کی زندگی بسر کررہے ہیں ۔ اس منظر نامے کے باوجود بھی بی جے پی کے لوگ صرف یہی کہتے ہیں کہ جو کچھ مودی جی اور یوگی جی کہتے ہیں وہ بالکل ٹھیک ہے ترقی کی گنگا بہہ رہی ہے اور گھر گھر خوشیوں کے چراغ جل رہے ہیں۔

    مشہور سنگر KK کی موت پر وزیر اعظم نریندر مودی کا ٹویٹ، پیش کیا خراج عقیدت

    ٹارگیٹ کلنگ کا شکار ہوئی رجنی بالا کی آخری رسوم میں رویندر رینا کے سامنے احتجاج درج

    آر ایس ایس کے ذریعے تشکیل شدہ مسلم راشٹریہ منچ سے تعلق رکھنے والے اسلم ہارون کہتے ہیں کہ یوگی راج میں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے بس اتر پردیش کے مسلمانوں کو سماج وادی پارٹی گمراہ کررہی ہے لیکن سیاسی لوگوں کی اپنی مصلحتیں اور مجبوریاں ہیں ۔ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ اگر جمہوریت میں جمہور کی آواز کو ہی نہیں سنا جائے گا تو دیش کیسے چلے گا کیسے ترقی کرے گا ضرورت اس بات کی ہے کہ مندروں مسجدوں  پر مبنی مذہبی سیاست و نفرت   کے کھیل کو  اب بند کیا جائے جس سے آئین و دستور میں یقین رکھنے والے لوگ آپس مل جل کررہیں ، فرقہ پرست ذہنیتوں کی حوصلہ شکنی ہو اور  ملک ترقی اور خوشحالی کی راہ پر سفر کر سکے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: