ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سردی کا قہر اور حکومت کے انتظامات اور سماجی سطح پر پیش رفت

آٹورکشہ ایسوسی ایشن نے نگر نگم کے افسران سے لکھنئو کے سبھی چوراہوں بالخصوص قیصر باغ، چار باغ ،عالم باغ اور ان سبھی مقامات پر الاو کے انتظامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • Share this:
سردی کا قہر اور حکومت کے انتظامات اور سماجی سطح پر پیش رفت
آٹورکشہ ایسوسی ایشن نے نگر نگم کے افسران سے لکھنئو کے سبھی چوراہوں بالخصوص قیصر باغ، چار باغ ،عالم باغ اور ان سبھی مقامات پر الاو کے انتظامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

لکھنئو۔ سردی کے بڑھتے قہر ، حکومت کے انتظامات اور آسائشوں کے فقدان نے عوام کے لئے دشواریاں پیدا کردی ہیں حالانکہ لکھنئو میں کچھ مقامات پر مسافروں کی شب گزاری کے لئے رین بسیرے بنائے گئے ہیں لیکن ان کے اوپری اور اندرونی انتظامات نہایت ناقص ہیں۔ شامیانے سے گرنے والی اوس فرش کو اتنا نم کردیتی ہے مسافرین ٹھنڈ سے بے حال ہو جاتے ہیں۔ الاو جلانے کے باب میں بھی ان حلقوں اور علاقوں کو نظر انداز کردیا گیا ہے جہاں ان کی واقعی ضرورت ہے اس کے بر عکس پاش کالونیوں با اثر لوگوں کے علاقوں اور شاہراہوں پر الاو جلائے جارہے ہیں۔


آٹورکشہ ایسوسی ایشن نے نگر نگم کے افسران سے لکھنئو کے سبھی چوراہوں بالخصوص قیصر باغ، چار باغ ،عالم باغ اور ان سبھی مقامات پر الاو کے انتظامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جہاں بڑی تعداد میں رکشہ پولر جمع رہتے ہیں ،جس سے رکشہ اور آٹو رکشہ چلانے والے غریب لوگوں اور مزدوروں کو راحت فراہم کی جاسکے ۔اس باب میں کچھ سماجی تنظیمیں اور اراکین خدمت خلق کے حوالے سے سماج کے غریب لوگوں کی بڑے پیمانے پر امداد کررہے ہیں۔ معروف لیڈر و سماجی کارکن صلاح الدین صدیقی نے لکھنئو کے مختلف علاقوں میں نہ صرف کمبل اور لحاف تقسیم کئے ہیں بلکہ سردیوں سے تحفظ فراہم کرنے کے لئے الاو جلانے کا بندوبست بھی کیا ہے۔ صبح اور رات کے وقت رکشہ چلانے والوں کے لئے الاو کے انتظامات کئے جارہے ہیں صلاح الدین کہتے ہیں کہ لوگوں کی ضروریات کےلحاظ سے نگر نگم کے ذریعے کیے جارہے انتظامات بہت ناقص اور بہت کم ہیں۔ لہٰذا ہم کسی نگم اور ادارے پر تنقید کرنے کے بجائے ذاتی طور پر بغیر تفریق مذہب و ملت لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے رہیں گے۔


اہم بات یہ ہے کہ صلاح الدین صدیقی کے ذریعے چلائی جارہی اس امدادی تحریک میں کئی اہم اداروں اور درگاہوں سے جڑے علما دانشور اور دیگر لوگ بھی شامل ہیں۔صلاح الدین صدیقی کہتے ہیں کہ یہ ہمارا سماجی مذہبی اور اخلاقی فریضہ ہے جسے پورا کرنے کی ہم کوشش کر رہے ہیں ۔ہمارے دروازے سبھی مذاہب کے ضرورت مندوں کے لئے کھلے ہیں صلاح الدین صدیقی نے لوگوں سے اپیل کی ہی کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں آگے بڑھ کر سماجی خدمت کے فرائض انجام دیں جس سے ہمارے معاشرے کے غریب اور ضرورت مند لوگ سردی کے قہر سے محفوظ رہتے ہوئے سکون سے اپنے شب و روز گزار سکیں۔

Published by: sana Naeem
First published: Dec 25, 2020 12:39 PM IST