ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نینی سینٹرل جیل میں بند خاتون قیدیوں کی حالت زار ، نفسیاتی امراض کا شکار ہو رہی ہیں خاتون قیدی

جیلوں میں بند خاتون قیدیوں کی حالت زارکی تفصیلات بہت کم منظر عام پرآ پاتی ہیں ۔ جبکہ مرد قیدیوں کے مقابلے خاتون قیدیوں کے مسائل زیادہ تشویش ناک اور سنگین ہیں ۔ خاتون قیدی نہ صرف بنیادی قانونی امداد سے محروم ہیں بلکہ ان کوجیلوں میں مختلف قسم کے سنگین مسائل کا بھی سامنا ہے۔

  • Share this:
نینی سینٹرل جیل میں بند خاتون قیدیوں کی حالت زار ، نفسیاتی امراض کا شکار ہو رہی ہیں خاتون قیدی
ملک کی جیلوں میں بند قیدیوں کی حالت زار اور ان کے ساتھ ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں ۔

ملک کی جیلوں میں بند قیدیوں کی حالت زار اور ان کے ساتھ ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں ۔ خاص طور سے انسانی حقو ق کے لئے کام کرنے والی تنظیمیں کئی بار جیلوں بند قیدیوں کے ساتھ ہونے والے غیرانسانی سلوک پر اپنی تشویش کا اظہار کر چکی ہیں لیکن اس طرح کے معاملے زیادہ ترمرد قیدیوں کے سلسلے میں سامنے آئے ہیں ۔ جیلوں میں بند خاتون قیدیوں کی حالت زارکی تفصیلات بہت کم منظر عام پرآ پاتی ہیں ۔ جبکہ مرد قیدیوں کے مقابلے خاتون قیدیوں کے مسائل زیادہ تشویش ناک اور سنگین ہیں ۔ خاتون قیدی نہ صرف بنیادی قانونی امداد سے محروم ہیں بلکہ ان کوجیلوں میں مختلف قسم کے سنگین مسائل کا بھی سامنا ہے۔


الہ آباد کی نینی سینٹرل جیل کا شمارملک کی سب سے بڑی اور قدیم ترین جیلوں میں ہوتا ہے ۔ نینی سینٹرل جیل کی تعمیرسن ۱۸۳۶ میں کرائی گئی تھی ۔ یہ جیل تقریباً نوے ایکڑ آراضی پر مشتمل ہے ۔ نینی سینٹرل جیل سے متصل خواتین کی جیل ہے جس میں تقریباً ڈیڑھ سو خاتون قیدیوں کو رکھا گیا ہے ۔سماجی تنظیم ’’ الکوثر سو سائٹی ‘‘ اور جیل انتظامیہ کے مشترکہ تعاون سے خواتین کی بیرک میں ایک روزہ ورک شاپ کا انعقاد کیا گیا ۔ اس ورک شاپ میں جیل کے اعلیٰ حکام کے علاوہ قانون دانوں اورسماجی کارکنان نے بھی شرکت کی ۔ خواتین کو گھریلو تشدد اور ان کے خلاف ہونے والے جرائم کے سد باب کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں ۔ خاص طورسے جیل میں بند خواتین کو قانونی مدد فراہم کرنے کے بارے میں جانکاری دی گئی ۔


ورک شاپ منعقد کرنے والی تنظیم ’’ الکوثر سوسائٹی ‘‘ کی صدر نازیہ نفیس کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے ذریعے جیل میں بند خاتون قیدیوں سے براہ راست گفتگو کرنے اور ان کے مسائل کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا ۔ نازیہ نفیس کا کہنا ہے کہ کورونا کی وبا ء شروع ہونے کے بعد سے خاتون قیدیوں کا ان کے رشتہ داروں سے ملاقات کا سلسلہ منقطع ہے ۔ رشتہ داروں سے ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی خاتون قیدیوں میں نفسیاتی امراض اور ڈیپریش میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ جیل میں بند بزرگ خاتون قیدیوں کی خراب صحت ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ بعض بزرگ قیدیوں نے صحت کے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ امراض چشم کی شکایت کی ہے ۔


خاتون قیدیوں کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ ان خواتین کا ہے جن کوعدالت سے ضمانت تو مل چکی ہے لیکن ضمانت کی رقومات ادا کرنے کے لئے ان کے پاس پیسے نہیں ہیں ۔ورک شاپ میں ان خواتین کی رہائی کے مسئلے پر سنجیدگی سے غور کیا گیا ہے ۔ نازیہ نفیس کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم مقامی انتظامیہ سے اس بارے میں بات کر رہی ہے کہ جن قیدی خواتین کو عدالت سے ضمانت مل چکی ہےان کی ضمانت بھروانے کے انتظامات کئے جائیں ۔ نازیہ نفیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ جیل میں بند زیر سماعت خاتون قیدیوں کو ہر ممکن قانونی مدد مہیا کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
Published by: sana Naeem
First published: Nov 14, 2020 07:36 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading