ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

لاک ڈاؤن کے اعلان کے درمیان کشمیر میں راحت کی خبر، عید الاضحیٰ کے پیش نظر ڈیوزنل کمشنر نے 3دن کیلئے بازار کھولنے کا کیا اعلان

مکمل لاک ڈاؤن کے اعلان کے بیچ کشمیر میں آج ایک راحت کی خبر ہے۔ وہ یہ کہ ڈیوزنل کمشنر کشمیر پانڈو رنگ پولے نے کشمیر میں عیدالاضحیٰ کے مدنظر تین دن تک بازار کھلے رکھنے کا اعلان کردیا۔ ڈیوزنل کمشنر نے ان ایام میں مساجد اور خانقاہوں کی صفائی کی اجازت دینے کی بات تو کی لیکن صاف کردیا کہ کسی قسم کی بھیڑ لگانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

  • Share this:
لاک ڈاؤن کے اعلان کے درمیان کشمیر میں راحت کی خبر، عید الاضحیٰ کے پیش نظر ڈیوزنل کمشنر نے 3دن کیلئے بازار کھولنے کا کیا اعلان
مکمل لاک ڈاؤن کے اعلان کے بیچ کشمیر میں آج ایک راحت کی خبر ہے۔

سرینگر: مکمل لاک ڈاؤن کے اعلان کے درمیان کشمیر میں آج ایک راحت کی خبر ہے۔ وہ یہ کہ ڈیوزنل کمشنر کشمیر پانڈو رنگ پولے نے کشمیر میں عیدالاضحیٰ (Eid ul Azha 2020) کے مدنظر تین دن تک بازار کھلے رکھنے کا اعلان کردیا۔ سرینگر میں عید کے سلسلے میں انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے ڈیوزنل کمشنر نے ضلع ترقیاتی کمشنر کو ہدایت دی کہ 28 جولائی سے 30 جولائی تک بازار مرحلہ وار کھولے جائیں تاکہ لوگ قربانی کے جانور اور دیگر خریداری کرسکیں۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اس بات کے پورے انتظامات کئے جائیں کہ کووڈ19 (covid-19) کے قواعد ضوابط کی پاسداری کی جائے۔ ڈیوزنل کمشنر نے ان ایام میں مساجد اور خانقاہوں کی صفائی کی اجازت دینے کی بات تو کی لیکن صاف کردیا کہ کسی قسم کی بھیڑ لگانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کا مطلب یہ کہ عید کی نماز کی اجازت نہیں ہوگی۔

کشمیر میں یہ مسلسل تیسری عید ہوگی جب عید کی نماز بڑی مساجد اور خانقاہوں میں ادا نہیں ہوگی۔ سال 2019 میں عیدالاضحیٰ کرفیو کے سایہ میں گذری جب دفعہ 370 کلعدم کئے جانے کے بعد سخت کرفیو نافذ کردیا گیا۔ اس دوران فون خدمات بھی بند کردی گئیں تھیں اور لوگ احباب اور رشتہ داروں کو عید کی مبارکباد تک بھی نہیں دے پائے تھے۔ سال 2020 میں عید الفطر کویڈ کے سائے میں گذری اور لاک ڈاؤن کے چلتے مساجد میں عید کی نماز ادا نہیں کی جاسکی۔

جموں کشمیر (jammu and kashmir) حکومت نے جولائی کے ابتدائی ہفتے میں ان لاک 2 کے تحت نہ صرف باغات کھولنے کا اعلان کردیا بلکہ ریاست میں سیاحت کو بحال کرنے کا بھی اعلان کر ڈالا۔ چند دن کے اندر لوگ بغیر ماسک گھومتے نظر آئے اور انہیں کچھ دن کے اندر پتہ چلا کہ کووڈ 19 (covid-19) کے نئے معاملے آسمان کو چھونے لگے۔ جب اسپتالوں میں مریضوں کا رش لگنے لگا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ پورا طبی نظام لڑکھڑانے لگا تو حکومت نے پھر سے آج سخت لاک ڈاؤن (Lockdown) نافذ کرنے کا اعلان کردیا۔

جموں کشمیر میں ویسے تو پچھلے کئی دنوں سے کچھ علاقوں میں پابندیاں عاید کی گئی تھیں لیکن آج حکومت نے بانڈی پورہ کو چھوڑ کر پوری کشمیر وادی میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کردیا۔حکومت کی طرف سے اس اعلان نامہ میں ضلع ترقیاتی افسران کو آرڈر جاری کرنے کی ہدایت دی گئی ہئے۔ اس اعلان میں زرعی اور باغبانی شعبے سے وابستہ افراد کو کام کرنے کی اجازت ہے لیکن قواعد و ضوابط کی حدود میں کشمیر میں پچھلے کئی دنوں سے ان علاقوں میں پابندیاں عائد کردی گئی تھیں جہاں بڑی تعداد میں نئے کووڈ 19 معاملے سامنے آئے تھے لیکن اس کے بعد بھی نئے کیسوں کی تعداد میں کمی کے بجائے یہ تعداد تیزی سے بڑھتی جارہی ہے۔


اعداد شمار کے مطابق صرف پچھلے ایک ہفتے میں 4085 نئے کووڈ 19 کے معاملے درج کئے گئے ہیں۔یعنی روزانہ 583 سے زیادہ معاملے۔ اموات پر نظر ڈالیں تو گذشتہ ایک ہفتے میں اڑسٹھ اموات درج کی گئی ہیں۔جولائی کے 21 دنوں میں 7761 نئے معاملے سامنے آئے یعنی ان اکیس دن میں اتنے معاملے سامنے آئے جتنے پچھلے ساڑھے تین مہینے میں درج کئے گئے ۔ اموات کی تعداد میں تو صرف ان 21 دنوں میں 62 فیصد کا اضافہ ہوا ہئے۔کچھ ماہرین تو صاف کہتے ہیں کہ وادی میں کمیونٹی میں وائرس پھیل گیا ہے۔ اسپتالوں میں سخت بیمار مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہئے۔ ہر طرف تناؤ کا ماحول ہئے لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو بغیر ماسک کے گھوم رہئے ہیں اور وائرس کے بارے میں عجیب کہانیاں گڑھ رہے ہیں۔
Published by: Sana Naeem
First published: Jul 22, 2020 08:27 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading