உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وادی کشمیر میں اسپائس پارک کا قیام عمل میں لانے سے کسانوں کو ہو سکتا ہے یہ بڑا فائدہ

    وادی کشمیر میں مرکزی سرکار زعفران کی پیداوار کو بڑھانے میں ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

    وادی کشمیر میں مرکزی سرکار زعفران کی پیداوار کو بڑھانے میں ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

    وادی کشمیر میں اگرچہ گزشتہ کئی سالوں سے زعفران کی پیداوار میں نمایاں کمی دیکھنے کو مل رہی تھی۔ تاہم مرکزی سرکار زعفران کی پیداوار کو بڑھانے میں ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

    • Share this:
    وادی کشمیر میں گزشتہ کئی سالوں سے زعفران کی پیداوار میں نمایاں کمی کو دیکھ کر مرکزی حکومت نے زعفران کے پیداوار بڑھانے کی غرض سے دسو پانپور میں انٹرنیشنل اسپائس پارک کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس سے کشمیری زعفران کو بین الاقوامی سطح پر فروغ ملے گا۔ وادی کشمیر میں اگرچہ گزشتہ کئی سالوں سے زعفران کی پیداوار میں نمایاں کمی دیکھنے کو مل رہی تھی۔ تاہم مرکزی سرکار زعفران کی پیداوار کو بڑھانے میں ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ وہیں دسو پانپور میں اسپائس پارک کا تعمیر بھی مکمل ہوا۔ اس پارک میں مختلف قسم کی مشینری لگائی ہے جس سے اصلی اور نقلی زعفران کو پرخنے میں آسانی ہوگی اور پارک سے زعفران کو جی آئی ٹیگینگ بھی لگے گی جس کو بینلاقوامی منڈی میں اچھا قیمت ملے گا اتنا ہی نہیں بلکہ یہاں ای مارکیٹین کے زریعے کسان بیرونی دنیا میں زعفران کو فروخت کرسکتا ہے۔

    مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ سپایس پارک بننے سے انہیں کافی فایئدہ ملے گا یہ سپایس پارک ایشیا کی سب سے بڑی پارک ہے جس پر کروڈوں روپیہ کا خرچہ ہوا ہے اور ہر قسم کی سہولیات باہم رکھی گئی ہے۔ وہیں اس پارک میں کولڈ اسٹوریج ،ویکیم سسٹم اور دیگر جدید قسم کی مشینری لگائی ہے، جو اصل زعفران کی شناخت کرے گی۔

    وہیں ڈائریکٹر ایگریکلچر سید الطاف ایجاز اندرابی نے نیوز اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پارک کی تعمیر سے وادی کشمیر کے زعفران کو کافی فروغ ملنے کے ساتھ۔ساتھ ر یہاں کے کسانوں کو بہت زیادہ آمدنی ہوگی انہوں کہا کہ یہ مرکزی سرکاریہ بڑا خواب تھا جو اب پورا ہوگیا ہے۔ اسی دوران وادی کے مختلف سیول سوسایئٹیوں کے ممبران اور زرایع ابلاغ کے نمانیدوں نے پارک کا دورہ کیا نیوز ایٹین سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپایس پارک کی تعمیر سے کشمیر کی مشعیت میں اضافہ ہو گا اور کشمیر کی اس پہچھان زعفران کو دنیا بھر میں مقبولیت ملے گی۔
    Published by:sana Naeem
    First published: