ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اس یونیورسٹی کے گرلس ہاسٹلوں میں شام چھ بجے ہی لگ جاتا ہے تالا

گرلس ہاسٹلوں میں مقیم طالبات نے قومی خواتین کمیشن سے شکایت کی تھی کہ سکیورٹی کے نام پر ان پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ گرلس ہاسٹلوں کے صدر دروازوں پر سر شام ہی تالا لگا دیا جا تا ہے۔

  • Share this:
اس یونیورسٹی کے گرلس ہاسٹلوں میں شام چھ بجے ہی لگ جاتا ہے تالا
اس یونیورسٹی کے گرلس ہاسٹلوں میں شام چھ بجے ہی لگ جاتا ہے تالا

الہ آباد۔ یونیورسٹی کے گرلس ہاسٹلوں میں سر شام تالا لگانے اور ہاسٹل سے باہر لڑکیوں کے نکلنے پر پابندی لگائے جانے  کے معاملے نے اب خاصا طول پکڑ لیا ہے۔ اس پورے معاملے پر قومی خواتین کمیشن نے اپنی سخت ناراضگی ظاہر کی ہے ۔کمیشن نے الہ آباد یونیورسٹی انتظامیہ سے جواب بھی طلب کر لیا ہے۔


گرلس ہاسٹلوں میں مقیم طالبات نے قومی خواتین کمیشن سے شکایت کی تھی کہ سکیورٹی کے نام  پر ان پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ گرلس ہاسٹلوں کے صدر دروازوں پر سر شام ہی تالا لگا دیا جا تا ہے۔طالبات کی شکایت ہے کہ شام چھ بجے کے بعد سے  لڑکیوں کو ہاسٹل سے باہر نکلنے پر پابندی لگا دی گئی ہے ۔ ان شکایات کے بعد قومی خواتین کمیشن کی چیئر پرسن ریکھا شرما نے از خود الہ آباد  یونیورسٹی میں  واقع  گرلس ہاسٹلوں کا دورہ کیا۔ کمیشن نے براہ راست طالبات سے ملاقات بھی کی ۔


قومی خواتین کمیشن کی چیئر پرسن ریکھا شرما نے کہا کہ ہاسٹل میں رہنے والی طالبات کی سکیورٹی کے نام پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔


کیمپس کا معائنہ کرنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے قومی خواتین کمیشن کی چیئر پرسن ریکھا شرما نے کہا کہ ہاسٹل میں رہنے والی طالبات کی سکیورٹی کے نام پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ ریکھا شرما کا کہنا ہے کہ  یونیورسٹی  کے گرلس  ہاسٹلوں میں شام چھ بجے ہی لڑکیوں کو مقفل کر دیا جاتا ہے جبکہ  بوائز ہاسٹلس  کے گیٹ دیر رات تک کھلے رہتے ہیں۔ الہ آباد یونیورسٹی کے کیمپس میں واقع گرلس ہاسٹلوں کے باہر طالبات سے چھیڑ خانی  کے واقعات اکثر و بیشتر پیش آتے رہتے ہیں۔ چھیڑ خانی کے واقعات کے خلاف الہ آباد یونیورسٹی کی طالبات کئی بار احتجاجی مظاہرہ بھی کر چکی ہیں ۔یونیورسٹی انتظامیہ نے طالبات کی سکیورٹی کے پیش نظر شام چھ بجے سے ہی گرلس ہاسٹلوں کا گیٹ بند کرنے اور جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرا نصب  کرنے کا فیصلہ کیا  ہے ۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے اس فیصلے کی طالبات نے مخالفت کی ہے۔ طالبات کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پابندیوں سے ان کی آزادانہ تعلیمی سرگرمیوں پر اثر پڑ رہا ہے ۔ ریکھا شرما نے کہا کہ اگر طالبات کو چھیڑخانی سے بچانا ہے تو  شر پسند عناصر  کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے نہ کہ ہاسٹل میں رہنے والی طالبات کو پابندیوں سے گذارا جائے۔
First published: Feb 13, 2020 06:49 PM IST
  • India
  • World

India

  • Active Cases

    6,039

     
  • Total Confirmed

    6,761

     
  • Cured/Discharged

    515

     
  • Total DEATHS

    206

     
Data Source: Ministry of Health and Family Welfare, India
Hospitals & Testing centres

World

  • Active Cases

    1,205,144

     
  • Total Confirmed

    1,682,220

    +78,568
  • Cured/Discharged

    375,093

     
  • Total DEATHS

    101,983

    +6,291
Data Source: Johns Hopkins University, U.S. (www.jhu.edu)
Hospitals & Testing centres