ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

پڑھئے ، ہاشم انصاری کے انتقال سے بابری مسجد کیس پر کیا پڑے گا اثر؟

بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ظفریاب جیلانی نے کہا ہے کہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور ہاشم انصاری نے اپنے بیٹے کو جانشین بنا رکھا ہے ، اس لئے اس معاملہ میں ان کے انتقال سے کوئی فرق نہیں پڑے گا

  • Pradesh18
  • Last Updated: Jul 21, 2016 12:30 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
پڑھئے ، ہاشم انصاری کے انتقال سے بابری مسجد کیس پر کیا پڑے گا اثر؟
بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ظفریاب جیلانی نے کہا ہے کہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور ہاشم انصاری نے اپنے بیٹے کو جانشین بنا رکھا ہے ، اس لئے اس معاملہ میں ان کے انتقال سے کوئی فرق نہیں پڑے گا

لکھنو : بابری مسجد تنازع کے اہم پیروکار اور مدعی ہاشم انصاری کے انتقال سے اس معاملے میں چل رہے کیس پر کیا اثر پڑے گا ، اب اس پر لوگ بحث کر رہے ہیں۔ اسی سلسلہ میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینر ظفریاب جیلانی نے کہا ہے کہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور ہاشم انصاری نے اپنے بیٹے کو جانشین بنا رکھا ہے ، اس لئے اس معاملہ میں ان کے انتقال سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

دوسری طرف ہاشم کے انتقال پر رام للا براجمان کے وکیل کا بھی کہنا ہے کہ سبھی فریقوں میں ہاشم انصاری نیک نیت اور صاف دل کے انسان تھے۔ انہوں نے ایودھیا اور فیض آباد میں امن کے لئے کافی کوششیں کیں ۔تاہم انہوں نے بھی کہا کہ ہاشم انصاری کے انتقال سے کیس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔واضح رہے کہ ہاشم انصاری 1949 سے اس مسئلے سے وابستہ رہے تھے ۔ تاہم 1961 میں وہ قانونی طور پر اس کیس کے پیروکار بنے۔

ظفریاب جیلانی نے ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انصاری اتنے نیک دل انسان تھے کہ انہوں نے کبھی اس مسئلے کو لے کر کوئی مالی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی۔ وہ نہ تو وہ کبھی بکے اور نہ ہی کبھی کسی کے سامنے جھکے۔

جیلانی نے کہا کہ ان کی ملاقات ان سے 1983 ہوئی تھی۔ اس دوران انہوں نے اپنی سائیکل سے بابری مسجد کو گھمایا تھا۔ جیلانی کا کہنا ہے ہاشم انصاری بابری مسجد کو لے کر اتنے منہمک تھے کہ وہ اکے سے کیس کی پیروی کے لئے جایا کرتے تھے۔

جیلانی نے کہا کہ ہاشم انصاری کی آخری خواہش پوری نہ ہو سکی ۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کے زندگی میں ہی اس مسئلے کا باہمی بات چیت سے حل نکل جائے۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا ، کیونکہ یہ مسئلہ ایودھیا کے سنتوں اور مهنتوں کے بس کی بات نہیں رہی۔ ہاشم انصاری نے مهنتوں کے ساتھ بات چیت سے مسئلے کو حل کرنے کا کوششیں تو کیں ، لیکن درپردہ وی ایچ پی اور آر ایس ایس نے اسے ہائی جیک کر لیا ۔ جس وجہ سے اب اس کا فیصلہ عدالت ہی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد ایکشن کمیٹی نے ہاشم انصاری کو کبھی کسی بھی بیان کے لئے نہیں روکا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ بابری مسجد کے مدعی کے طور پر دنیا میں جانے جاتے ہیں۔

First published: Jul 21, 2016 12:30 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading