உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حکومت کی حالیہ ساخت کا شناخت نامہ، مشرقی یوپی کی بنسبت مغربی یوپی میں بھارت بند کا زیادہ اثر

    یوں تو پوری ریاست میں ہی بھارت بند کا اثر دیکھنے کو ملا لیکن مشرقی اتر پردیش کی بنسبت مغربی اتر پردیش میں کسانوں اور مزدوروں کے احتجاج کی لے خاصی تیز اور موثر نظر آئی۔

    یوں تو پوری ریاست میں ہی بھارت بند کا اثر دیکھنے کو ملا لیکن مشرقی اتر پردیش کی بنسبت مغربی اتر پردیش میں کسانوں اور مزدوروں کے احتجاج کی لے خاصی تیز اور موثر نظر آئی۔

    یوں تو پوری ریاست میں ہی بھارت بند کا اثر دیکھنے کو ملا لیکن مشرقی اتر پردیش کی بنسبت مغربی اتر پردیش میں کسانوں اور مزدوروں کے احتجاج کی لے خاصی تیز اور موثر نظر آئی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    لکھنئو۔ آج بھارت بند کے دوران پورے ملک میں جو ماحول دیکھنے کو ملا۔ اس کو لے کر سیاسی مبصرین اور سیاسی قائدین اپنی آراء کا اظہار کررہے ہیں لیکن عوامی رد عمل اور رجحان نے جو اشارے دئے ہیں اس کے پس منظر میں حکومت کے عروج و زوال کو بھی دیکھا جا سکتا ہے اور حکومت کی موجودہ حالت کا تجزیہ بھی بہ آسانی کیا جاسکتا ہے۔بات اگر اتر پردیش کے تناظر میں کریں تو ملک کی اس سب سے بڑی ریاست میں جس انداز سے کسانوں اور مزدوروں کی آواز پر عوام و خاص نے لبیک کہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے تو یہی لگتا ہے کہ اگر کسانوں کے مسائل حل نہ کئے گئے اور ان کے مطالبات نہ پورے کیے گئے تو اتر پردیش میں اپنا اقتدار بر قرار رکھنا بی جے پی کے لئے مشکل ہوجائے گا۔ آج اتر پردیش کے سبھی اضلاع میں حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں اور کسان مخالف قوانین کے خلاف آوازاٹھائی گئی۔ یوں تو پوری ریاست میں ہی بھارت بند کا اثر دیکھنے کو ملا لیکن مشرقی اتر پردیش کی بنسبت مغربی اتر پردیش میں کسانوں اور مزدوروں کے احتجاج کی لے خاصی تیز اور موثر نظر آئی۔

    بار بار اس بات کو دہرایا گیا کہ اگر ریاستی اور مرکزی حکومتوں نے کسانوں کے حقوق بحال نہیں کئے ، بنائے گئے قوانین واپس نہیں لیے تو حکومتوں کو اقتدار سے بے دخل ہونا ہی پڑے گا۔تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ بی جے پی کے لیڈر اور بی جے پی اراکین اس بند کی مخالفت میں لوگوں سے بازار کھلواتے اور کسانوں کی آواز کو دباتے نظر آئے اور بی جے پی اراکین و لیڈران کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ عوام بی جے پی اور یوگی جی مودی جی کے ساتھ ہیں اس لئے بھارت بند کا کوئی بڑا اثر نہیں ۔۔ یہ جمہوریت ہے یہاں سب کو اپنی بات کہنے کا حق ہے لیکن سچ کون بول رہا ہے اس کا اندازہ بہ آسانی لگایا جاسکتا ہے۔ اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس بھارت بند کو لے کر بھی خوب سیاست کی گئی اتر پردیش میں بی جے پی کے علاوہ سبھی سیاسی جماعتوں اور سیاسی تنظیموں نے بھارت بند کی حمایت میں بیان بھی دیے کسانوں کے زخموں پر لفظی مرہم بھی رکھا اور اس بند جو کامیاب بنانے کی کوششیں بھی کیں۔

    حزب اختلاف کے لوگ مانتے ہیں کہ غریبوں مزدروں کسانوں اور نو جوانوں کی جتنی حق تلفی ، استحصال اور بربادی اس عہد میں ہوئی ہے اتنی پہلے کبھی نہیں ہوئی ، کورونا سے لیکر قوانین بنانے تک حکومت صرف اپنے لئے اپنے لوگوں کے لئے کام کرتی رہے ہزاروں کروڑ کا ڈونیشن، امدادی رقم غضب کر کی گئی عوام کو حساب نہیں دیا گیا لوگ بغیر دواؤں اور غذاؤں کے مرتے رہے اور حکومت جھوٹا پرچار کرتی رہی۔ سماج وادی پارٹی کے ڈاکٹر بھدوریہ کہتے ہیں کہ بی جےپی الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ اتر پردیش میں پھر ہندو مسلم کارڈ کھیلا جارہا ہے مولانا کلیم الدین اور دیگر اقلیتی طبقے کے لوگوں کی گرفتاری سے چناؤ کے لئے ماحول بنانے اور ایودھیہ میں مہنت جی کی موت کے معاملے کی پیچیدگی کو چھپانے کے لیے یہ سب کیا جارہا ہے ۔ ساتھ ہی بھدوریہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جنتا بیدار ہو چکی ہے نفرت اور مندر کارڈ اس بار بی جے پی کی مدد نہیں کر پائے گا کیونکہ ان کارڈوں کے علاوہ بی جے پی کے ہاس کوئی ایسا کام نہیں جنہیں لے کر وہ عوام کے رو بہ رو جاسکے۔۔ دیکھنا یہی ہے کہ کسانوں اور مزدوروں کی یہ حکومت مخالف تحریک ، یہ لہر کس طرح کی تبدیلیاں لاتی ہے کیا گل کھلاتی ہے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: