ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

کاشی وشوناتھ مندر ہندو رانی کی عصمت دری کے بعد  ہندو راجاؤں کی درخواست پر توڑا گیا

س مندر میں راجہ کی ملکہ کے ساتھ عصمت دری کی گئی تھی ، عصمت دری کے بعد رانی کو قتل کر دیا گیا تھا مندر کے اندر تہخانے سے لاش برآمد ہوئی تھی جس کے بعد ہندو راجاؤں نے مندر کو ناپاک مقام بتاتے ہوئے مندرکو توڑنے کی گزارش کی تھی جس پر بادشاہ اورنگزیب نے مندر کو منہدم کردیا تھا۔

  • Share this:
کاشی وشوناتھ مندر ہندو رانی کی عصمت دری کے بعد  ہندو راجاؤں کی درخواست پر توڑا گیا
س مندر میں راجہ کی ملکہ کے ساتھ عصمت دری کی گئی تھی ، عصمت دری کے بعد رانی کو قتل کر دیا گیا تھا مندر کے اندر تہخانے سے لاش برآمد ہوئی تھی جس کے بعد ہندو راجاؤں نے مندر کو ناپاک مقام بتاتے ہوئے مندرکو توڑنے کی گزارش کی تھی جس پر بادشاہ اورنگزیب نے مندر کو منہدم کردیا تھا۔

بنارس کی گیان واپی مسجد اور کاشی وشوناتھ مندر معاملے میں بنارس کی ضلع عدالت نے محکمہ آثار قدیمہ کو پانچ رکنی ٹیم بنا کر کھدائی کرنے اور سروے کا حکم دیا ہے عدالت نے اپنے فیصلے میں کئی طرح کے احتیاطی قدم اٹھانے اور اقلیتی طبقے سے دو اراکین کی تقرری کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مخالفت کرتے ہوئے ضلع عدالت کے فیصلے پر سوال اٹھائے ہیں۔ رام مندر بابری مسجد تنازعہ میں مسلم فریق کے وکیل اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ممبر ، ایڈووکیٹ ایم آر شمشاد نے نیوز 18 کو بتایا کہ 1991 کے مذہبی مقامات ایکٹ کے مطابق اس طرح کا فیصلہ نہیں آنا چاہیے تھا کیونکہ کہ 1991کا مذہبی مقامات سے متعلق قانون کہتا ہے۔ 15 اگست 1947 کہ وقت جو بھی کسی مقام کی حالت تھی اس میں تبدیلی نہیں کی جائے گی سینئر وکیل ایم‌آر شمشاد نے کہا سپریم کورٹ نے ایودھیا تنازعہ میں فیصلہ سناتے ہوئے اس 1991 کے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایک بہت اہم قانون ہے اور اسے آئینی حیثیت حاصل ہے ۔ایم آر شمشاد نے کہا کہ محکمہ آثار قدیمہ نے بابری مسجد تنازعہ میں بھی کھدائی کی تھی اور سروے کیا تھا۔

کمیٹی کی رپورٹ نے کوئی بہتر حل پیش نہیں کیا تھا بلکہ مسئلہ اور الجھ گیا تھا۔ اور اس پوری رپورٹ پر خوب سیاست ہوئی اس معاملے کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے ضلع عدالت میں یعنی اب گیان واپی مسجد اور مندر میں جو مقدمہ 1991 سے چل رہا ہے اس کی سماعت کو لے کر پہلے ہی شکوک و شبہات ہیں کاشی وشوناتھ مندر کے معاملے پر سماعت ہونی بھی ہے یا نہیں اس کو لے کر ایک عرضی الہ آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے ۔ ایم آر شمشاد نے کہا جہاں تک بابری مسجد معاملے میں محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ کا سوال ہے۔


اس رپورٹ پر سیاست تو ہوئی اور بعد میں سپریم کورٹ میں اے ایس آئی کی رپورٹ کو ایک طرح سے منسوخ کردیا گیا تھا۔ ایم آر شمشاد نے کہا جو فیصلہ آیا ہے وہ 1991 کے کے مذہبی عبادت گاہوں سے متعلق قانون کے برخلاف ہے کیونکہ اگر کھدائی ہوتی ہے تو شواہد تخلیق کیے جائیں گے اور عدالت کا کام شواہد کو پیدا کرنا نہیں ہے ۔ ایم آر شمشاد نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ 1991 کے پلیس آف ورشپ ایکٹ سے متعلق درخواستوں کو سپریم کورٹ میں خارج کردیا جائے گا ۔ ایم آر شمشاد نے کہا اگر کھدائی ہوتی ہے اور سروے کیا جاتا ہے تو اس سے ایک بار اور بابری مسجد تنازعہ جیسے حالات پیدا ہوں گے اور سیاست ہوگی ہو سکتا ہے ایک طویل عرصے کے بعد فیصلہ آجائے ، لیکن اس دوران جو سیاست ہوگی اور نفرت پھیلے گی اس نقصان کی تلافی نہیں ہوگی۔



دوسری جانب مسلم پرسنل لا بورڈ کی ورکنگ کمیٹی کے ممبر قاسم رسول الیاس نے کہا کہ کاشی وشوناتھ مندر کو ہندو راجاؤں کی ایماء پر اورنگ زیب نے توڑ دیا تھا۔ قاسم رسول نے بتایا کہ اس مندر میں کچھ کے راجہ کی ملکہ کے ساتھ عصمت دری کی گئی تھی ، عصمت دری کے بعد رانی کو قتل کر دیا گیا تھا مندر کے اندر تہخانے سے لاش برآمد ہوئی تھی جس کے بعد ہندو راجاؤں نے مندر کو ناپاک مقام بتاتے ہوئے مندرکو توڑنے کی گزارش کی تھی جس پر بادشاہ اورنگزیب نے مندر کو منہدم کردیا تھا۔ قاسم رسول نے کہا کہ 1991 کے پارلیمانی ایکٹ کے تحت بابری مسجد رام مندر تنازعہ کے علاوہ کسی بھی معاملے کو نہیں اٹھایا جاسکتا ، بنارس ضلعی عدالت کا فیصلہ اس قانون کے خلاف ہے۔قاسم رسول نے کہا کہ کاشی وشوناتھ مندر کو توڑا گیا تھا لیکن ہندو راجاؤں کے کہنے پر توڑا گیا تھا تھا حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ہندو راجاؤں نے گزارش کی تھی موقع پر ایک فوجی ٹکڑی تعینات کی جائے اس فوجی ٹکڑی کے لئے مندر کے قریب کی جگہ پر مسجد تعمیر کی گئی تھی لیکن مسجد مندر کی جگہ پر نہیں بنائی گئی بلکہ قریب کی جگہ پر بنائی گئی ہے۔ قاسم رسول نے کہا اگر ہم تاریخ میں جائیں تو اس کے پیچھے بھی تاریخ ہے ،ہندوستان گوتم بدھ کی سرزمین ہے اور بودھ مندروں کو بھی ماضی میں توڑا گیاہے اگر اس سلسلے کو نہیں روکا گیا تو یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا جائے گا۔
Published by: Sana Naeem
First published: Apr 09, 2021 05:41 PM IST