உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    معیاری تعلیمی نظام قائم کرنے کیلئے اخلاقی تعلیم کی ہر سطح پر ضرورت 

    پروفیسر سید وسیم اختر کا یہی ماننا ہے کہ اخلاقی تعلیم صرف پرائمری اور جونئر کے بچوں کے لئے ہی نہیں بلکہ ہر سطح پر فراہم کی جانی چاہئے۔

    پروفیسر سید وسیم اختر کا یہی ماننا ہے کہ اخلاقی تعلیم صرف پرائمری اور جونئر کے بچوں کے لئے ہی نہیں بلکہ ہر سطح پر فراہم کی جانی چاہئے۔

    پروفیسر سید وسیم اختر کا یہی ماننا ہے کہ اخلاقی تعلیم صرف پرائمری اور جونئر کے بچوں کے لئے ہی نہیں بلکہ ہر سطح پر فراہم کی جانی چاہئے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Lucknow, India
    • Share this:
    لکھنئو: سماج کی اصلاح کے لئے چلائی جارہی اسکیمیں اور تحریکیں اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکیں گی جب تک تعلیمی اداروں میں اخلاقی تعلیم کو ہر سطح پر متعارف نہ کرادیا جائے، اگر بچوں کی تعلیم و تربیت صحیح خطوط پر ہو، انہیں صحیح رہنما اساتذہ اور ہادی مل جائیں تو منزلیں ان کا مقدر بن جاتی ہیں۔ ہمارے سامنے دنیا کے کئ ایسے کئی عظیم لوگوں کی مثالیں ہیں جنہوں نے تمام تر پریشانیوں اور مسائل کے باوجود تعلیم حاصل کرکے غیر معمولی و تاریخی کارنامے انجام دئے ہیں اور وہ ہمارے لئے مشعلِ ہدایت بن گئے ہیں ان خیالات کا اظہار انٹگرل یونیورسٹی کے بانی و چانسلر پروفیسر سید وسیم اختر نے طلبا و طالبات کے لئے منعقد کئے گئے اورئنٹیشن پروگرام میں کیا۔ واضح رہے کہ یونیورسٹی میں نئے طلبا وطالبات کے لیے تو ایک عظیم الشان تقریب منعقد کی ہی گئی تھی۔ جس میں اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ نے شرکت کی تھی ساتھ ہی یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کی جانب سے بھی تعارفی اور معلوماتی پروگراموں کا انعقاد عمل میں آیا ،انٹیگرل یونیورسٹی کے وسیع ایڈیٹوریم میں منعقدہ تقریب میں پروفیسر سید وسیم اختر نے بچوں کو جس انداز سے مخاطب کیا۔ وہ ان کے شعور اور تجربے کی بنیاد پر نہایت اہم خطاب تھا تعلیمی انسلاک کے ساتھ زندگی کے مختلف امور پر اظہار کرتے ہوئے انہوں نے طلبا و طالبات کو اخلاقی تعلیم کی طرف راغب کرنے کے لئے خصوصی اقدامات کرنے پر زور دیا۔

    واضح رہے کہ اس سال سی بی ایس سی ( دہلی ) کے دسویں اور بارہویں کلاس کے امتحانات میں انٹیگرل انٹرنیشنل اسکول کے نتائج سو فیصد رہے تھے ، ایک سو بہتّر (۱۷۲) میں سے پچاس سے زیادہ بچوں نے اسّی فیصد سے زیادہ نمبر حاصل کیے تھے جن میں سے دس طلبا و طالبات ایسے بھی ہیں جنہوں نے نوّے ۹۰ فیصد سے زیادہ نمبر حاصل کر کے انٹیگرل انٹرنیشنل اسکول ( ٹیکنو اکیڈمک ہائر سیکنڈری اسکول ) کی برتری اور امتیازی حیثیت کو برقرار رکھا ہے ۔ غیر معمولی کامیابی حاصل کرنے والے طلبا و طالبات کی حوصلہ افزائی کےمقصد سے منعقد کی گئی تقریب میں بچوں کو اسناد اور میڈلز کے ساتھ پروفیسر سید وسیم اختر نے انہیں دیگر حوصلہ افزا انعامات بھی پیش کئے تھے۔

    انکتا بھنڈاری قتل سانحہ: مشتعل ہجوم نے ریزارٹ میں لگائی آگ، والد-بھائی بی جے پی سے معطل

    اب بھوپال میں بھی چنڈی گڑج جیسا MMS کیس، واش روم میں کپڑے بدل رہی طالبہ کا بنایا ویڈیو اور

    چانسلر مانتے ہیں کہ تربیت کا سلسلہ ایک مسلسل چلتے رہنے والا سلسلہ ہے جسے صرف پرائمری اور جونئر کلاسز میں ہی نہیں بلکہ ہر سطح پر جاری رہنا چاہئے ۔ پرو چانسلر سید ندیم اختر بھی یہی مانتے ہیں کہ مورل ایجوکیشن کو یقینی بناکر تعلیمی ترقی اور استحکام کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔اس موقع پر یونیورسٹی کے اساتذہ نے کہا کہ پروفیسر سید وسیم اختر کی قیادت و رہنمائی میں انٹیگرل یونیورسٹی اور انٹرنیشنل اسکول نئ منزلیں طے کی ہیں ، ہم ان کے ذریعے چلائے جارہے تعلیمی مشن کو کامیاب بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے ہمیں یقین ہے کہ آنے والے وقت میں ہم مزید بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے ، انٹیگرل یونیورسٹی اور انٹرنیشنل اسکول کے طلبا و طالبات بھی یہی کہتے ہیں کہ پروفیسر سید وسیم اختر کے احکامات کی روشنی میں یہاں کے اساتذہ اور سربراہوں نے ہمیں تعلیم کا جو ماحول فراہم کیا ہے اسی کی وجہ سے آج یونیورسٹی کا نام پوری دنیا میں مشہور و مقبول ہوا ہے۔

    یک اہم بات یہ بھی ہے کہ ماضی میں ایک جھوپڑی اور پیڑ کے سائے میں شروع ہوا اسکول آج اپنے عہد کی ممتاز شناخت بنتا جارہا ہے ، بانی و چانسلر پروفیسر سید وسیم اختر کا ماننا ہے کہ بچے ہی معاشرے اور ملک کا مستقبل ہیں لہٰذا ان کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی ، بہتر تعلیم کی فراہمی اور معیار قائم کرنے کے لئے ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گے ۔۔اس موقع پر ، پروچانسلر سید ندیم اختر ، وائس چانسلر پروفیسر جاوید مسرت ، پرووائس چانسلر سید عقیل احمد اور رجسٹرار پروفیسر حارث صدیقی سمیت کئی دیگر معززین بھی متعارفی تقریب میں شریک ہوئے ۔۔پروفیسر سید وسیم اختر نے اپنی زندگی کا بہشتر تعلیم کے فروغ کے لئے صرف کردیا اور خاص طور پر ان لوگوں کی تعلیمی ترقی کے لئے جو تعلیمی اعتبار سے پسماندہ ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر بھی بہت کمزور ہیں ۔آج بھی سیکڑوں بچے ایسے ہیں جو ان کے تعلیمی مشن کے ذریعے مفت تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: